hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2860

.

الطحاوي

2860
Al Tahawi
۲۸۶۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا یُوْسُفُ بْنُ بُہْلُوْلٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدَۃُ بْنُ سُلَیْمَانَ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ‘ عَنْ فَاطِمَۃَ بِنْتِ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا قَالَتْ : مَا عَلِمْنَا بِدَفْنِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتَّی سَمِعْنَا صَوْتَ الْمَسَاحِیْ فِیْ آخِرِ اللَّیْلِ اللَّیْلَۃَ الْأَرْبِعَائَ .وَھٰذَا بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یُنْکِرُہٗ أَحَدٌ مِنْہُمْ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا کَانَ مِنْ نَہْیِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّفْنِ لَیْلًا إِنَّمَا کَانَ لِعَارِضٍ‘ لَا لِأَنَّ اللَّیْلَ یُکْرَہُ الدَّفْنُ فِیْہِ اِذَا لَمْ یَکُنْ ذٰلِکَ لِعَارِضٍ .وَقَدْ قَالَ عُقْبَۃُ بْنُ عَامِرٍ : (ثَلاَثُ سَاعَاتٍ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَنْہَانَا أَنْ نُصَلِّیَ فِیْہِنَّ‘ وَأَنْ نَقْبُرَ فِیْہِنَّ مَوْتَانَا : حِیْنَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ حَتّٰی تَرْتَفِعَ‘ وَحِیْنَ یَقُوْمُ قَائِمُ الظَّہِیْرَۃِ حَتّٰی یَمِیْلَ‘ وَحِیْنَ تَضِیْفُ الشَّمْسُ لِلْغُرُوْبِ حَتّٰی تَغْرُبَ) وَقَدْ ذَکَرْنَا ذٰلِکَ بِإِسْنَادِہٖ فِیْمَا تَقَدَّمَ مِنْ کِتَابِنَا ھٰذَا .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَا سِوٰی ھٰذِہِ الْأَوْقَاتِ بِخِلَافِہَا فِی الصَّلَاۃِ عَلَی الْمَوْتٰی وَدَفْنِہِمْ فِی الْکَرَاہَۃِ .
٢٨٦٠: عمرہ بنت عبدالرحمن نے حضرت عائشہ (رض) سے روایت کی ہے کہ ہمیں دفن رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا علم نہ ہوا یہاں تک کہ ہم نے کدالوں کی آوازیں بدھ کی رات کے آخری حصہ میں سنیں۔ یہ تمام عمل صحابہ کرام (رض) کی موجودگی میں ہوا ۔ ان میں سے کسی نے بھی انکار نہ کیا ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ رات کو دفن کی ممانعت والا ارشاد کسی عارضہ کی بناء پر تھا ۔ یہ وجہ نہ بھی کہ رات کو دفن میں کچھ قباحت ہے جب کہ وہ عارضہ نہ ہو ۔ حضرت عقبہ بن عامر (رض) نے بتلایا کہ تین اوقات ہیں ‘ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان میں ہمیں نماز سے منع فرمایا اور اس سے بھی منع فرمایا کہ ہم ان اوقات میں اپنے مردوں کو دفن کریں : جب کہ سورج طلوع ہو رہا ہو یہاں تک کہ وہ بلند نہ ہوجائے ۔ ! دوپہر کا وقت ہو یہاں تک کہ ڈھل جائے۔ " سورج غروب ہو رہا ہو یہاں تک کہ مکمل غروب ہوجائے ۔ اس روایت کو اسناد کے ساتھ اپنی اسی کتاب میں ذکر آئے ۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ ان اوقات کے علاوہ اوقات میں میت پر نماز و تدفین میں کراہت نہیں۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٣؍٣٢‘ مسلم ابو داؤد ترمذی ابن ماجہ اخرجہ۔
یہ دفن کا معاملہ تمام صحابہ کرام کی موجودگی میں ہوا اس پر کسی نے نکیر نہیں کی اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ رات کو دفن کی ممانعت کسی عارضہ سے تھی اس بناء پر نہیں کہ رات کو دفن کرنا ممنوع ہے اگر اس کو عارضہ کی وجہ سے تسلیم نہ کریں تو عقبہ بن عامر (رض) کی روایت موجود ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس میں ہمیں نماز پڑھنے ‘ میت کو دفن کرنے سے منع فرمایا وہ اوقات یہ ہیں طلوع آفتاب کے وقت جب تک کہ وہ بلند نہ ہوجائے اور دوپہر کے وقت جب تک ڈھل نہ جائے جب کہ غروب ہو رہا ہو یہاں تک کہ مکمل طور پر غروب نہ ہوجائے۔
تخریج : یہ روایت مسلم فی المسافرین ٢٩٣‘ ابو داؤد نمبر ٣١٩٢‘ نسائی فی المواقیت باب ٣١‘ ترمذی فی الجنائز باب ٤١‘ ابن ماجہ ١٥١٩‘ دارمی باب ١٤٢‘ مسند احمد ٤؍١٥٢۔
یہ روایت دلالت کرتی ہیں کہ ان کے علاوہ اوقات میں موتیٰ پر نماز اور دفن میں کوئی کراہت نہیں اور رات تو ان کے علاوہ اوقات سے ہے۔