۲۸۶۵ : وَحَدَّثَنَا بَکْرُ بْنُ إِدْرِیْسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا مُوْسَی بْنُ عَلِیٍّ‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبِیْ عَنْ عُقْبَۃَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَہٗ أَیُقْبَرُ بِاللَّیْلِ؟ فَقَالَ : نَعَمْ‘ قُبِرَ أَبُوْ بَکْرٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ بِاللَّیْلِ .فَلاَ نَرٰی بِالدَّفْنِ لَیْلًا بَأْسًا .وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .
٢٨٦٥: موسیٰ بن علی کہتے ہیں کہ میں نے اپنے والد سے عقبہ کے حوالہ سے سنا کہ ایک آدمی نے ان سے دریافت کیا کیا رات کو دفن کیا جائے گا ؟ انھوں نے کہا۔ جی ہاں۔ ابوبکر (رض) کو رات کے وقت دفن کیا گیا۔ ہم رات کے وقت دفن میں کچھ حرج خیال نہیں کرتے اور یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
تخریج : ابن ابی شیبہ ٣؍٣١۔
حاصل روایات : یہ علی مرتضیٰ (رض) اور دیگر صحابہ کرام کا عمل ہے جس سے ثابت ہوتا ہے کہ رات کو دفن کرنے میں کوئی سی کراہت بھی نہیں یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔
نوٹ : اس باب میں ثابت کیا کہ فریق اوّل کی رایات معلل ہیں اور اس کے علاوہ فریق ثانی کی روایات موضوع کو صراحۃً ثابت کرتی ہیں اور عمل صحابہ اس پر شاہد ہے پس رات کی تدفین میں کچھ قباحت نہیں یہ باب بھی نظر طحاوی (رح) سے خالی ہے۔