۲۸۷۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْمُقَدَّمِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِیْ حُمَیْدٍ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ کَعْبٍ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (مَنْ قَعَدَ عَلٰی قَبْرٍ‘ فَتَغَوَّطَ عَلَیْہِ أَوْ بَالَ‘ فَکَأَنَّمَا قَعَدَ عَلٰی جَمْرَۃٍ) .فَثَبَتَ بِذٰلِکَ أَنَّ الْجُلُوْسَ الْمَنْہِیَّ عَنْہُ فِی الْآثَارِ الْأُوَلِ‘ ہُوَ ھٰذَا الْجُلُوْسُ‘ فَأَمَّا الْجُلُوْسُ لِغَیْرِ ذٰلِکَ‘ فَلَمْ یَدْخُلْ فِیْ ذٰلِکَ النَّہْیِ .وَھٰذَا قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ‘ وَأَبِیْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی .وَقَدْ رُوِیَ ذٰلِکَ عَنْ عَلِیٍّ وَابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ .
٢٨٧٨: محمد بن کعب نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جو شخص قبر پر پیشاب یا پائخانہ کرنے بیٹھا وہ گویا انگارے پر بیٹھا۔ پس اس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ وہ بیٹھنا جس کی ممانعت آثار والیٰ میں پائی گئی ہے وہ یہی بیٹھنا ہے۔ اس کے علاوہ بیٹھنا ممانعت میں داخل نہیں ‘ اور یہ قول امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد (رح) کا ہے اور حضرت علی اور ابن عمر (رض) سے بھی مروی ہے۔
حاصل کلام : یہ کہ قبور پر جس بیٹھنے کی ممانعت ہے وہ پیشاب و پائخانہ کے لیے بیٹھنا ہے البتہ اس کے علاوہ بیٹھنا وہ اس میں داخل نہیں۔
یہی امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے۔