۲۸۹۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ شِہَابٍ‘ عَنْ سُفْیَانَ وَوَرْقَائَ ‘ عَنْ أَبِی الزِّنَادِ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْأَعْرَجِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا تَقْسِمُ وَرَثَتِیْ دِیْنَارًا مَا تَرَکْتُ بَعْدَ نَفَقَۃِ أَہْلِیْ وَمُؤْنَۃِ عَامِلِیْ فَہُوَ صَدَقَۃٌ) .قَالُوْا : فَفِیْ حَدِیْثِ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ ھٰذَا مَا یَدُلُّ عَلٰی أَنَّہَا کَانَتْ صَدَقَاتٍ فِیْ عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِقَوْلِہٖ (بَعْدَ مُؤْنَۃِ عَامِلِیْ) وَعَامِلُہٗ لَا یَکُوْنُ إِلَّا وَہُوَ حَیٌّ .قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذِہِ الْآثَارِ‘ مَا قَدْ دَلَّ عَلٰی أَنَّ الصَّدَقَۃَ لِبَنِیْ ہَاشِمٍ حَلَالٌ‘ لِأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَہْلَہٗ وَفِیْہِمْ فَاطِمَۃُ بِنْتُہٗ‘ قَدْ کَانُوْا یَأْکُلُوْنَ مِنْ ھٰذِہِ الصَّدَقَۃِ فِیْ حَیَاۃِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلَی اِبَاحَۃِ سَائِرِ الصَّدَقَاتِ لَہُمْ‘ فَالْحُجَّۃُ عَلَیْہِمْ فِیْ ذٰلِکَ‘ أَنَّ تِلْکَ الصَّدَقَۃَ کَصَدَقَاتِ الْأَوْقَافِ‘ وَقَدْ رَأَیْنَا ذٰلِکَ یَحِلُّ لِلْأَغْنِیَائِ .أَلَا تَرٰی أَنَّ رَجُلًا لَوْ أَوْقَفَ دَارِہِ عَلٰی رَجُلٍ غَنِیٍّ‘ أَنَّ ذٰلِکَ جَائِزٌ وَلَا یَمْنَعُہُ ذٰلِکَ غِنَاہُ‘ وَحُکْمُ ذٰلِکَ خِلَافُ حُکْمِ سَائِرِ الصَّدَقَاتِ مِنَ الزَّکَوَاتِ وَالْکَفَّارَاتِ‘ وَمَا یُتَقَرَّبُ بِہٖ إِلَی اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ‘ فَکَذٰلِکَ مَنْ کَانَ مِنْ بَنِیْ ہَاشِمٍ ذٰلِکَ لَہُمْ حَلَالٌ وَحُکْمُہُ خِلَافُ حُکْمِ سَائِرِ الصَّدَقَاتِ الَّتِیْ قَدْ ذَکَرْنَا .ثُمَّ قَدْ جَائَ تْ بَعْدُ ھٰذِہِ الْآثَارُ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مُتَوَاتِرَۃً بِتَحْرِیْمِ الصَّدَقَۃِ عَلٰی بَنِیْ ہَاشِمٍ .فَمِمَّا جَائَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٢٨٩١: عبدالرحمن الاعرج نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا میری وراثت دینار کی صورت میں تقسیم نہ ہوگی میرے اہل و عیال کے خرچہ اور میرے گھریلو کام کرنے والوں کی اعانت کے علاوہ صدقہ ہے۔ انھوں نے فرمایا کہ یہ حدیث ابوہریرہ (رض) اس بات پر دلالت کر رہی ہے کہ وہ اموال جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ مبارک میں صدقات تھے اس لیے کہ اس روایت میں آپ کا ارشاد ” بعد مونۃ عاملی ‘ ‘ موجود ہے اور آپ کا عامل ہونا وہ آپ کی حیات مبارکہ ہی میں ہوسکتاے۔ ان آثار میں ایسی دلالت ملتی ہے جو اس بات کو ثابت کرتی ہے کہ صدقات بنی ہاشم کے لیے حلال ہے۔ کیونکہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور آپ کے اہل اور ان میں آپ کی بیٹی فاطمہ (رض) بھی ہے۔ وہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں اس صدقہ سے کھاتے تھے ۔ تو اس سے یہ دلالت مل گئی کہ یہ تمام صدقات کی طرح ان پر حلال تھا۔ پس ان کے خلاف اس سلسلہ میں حجت یہ ہے۔ کہ یہ صدقہ صدقات اوقاف کی طرح ہے۔ اور ہم جانتے ہیں کہ یہ مالداروں کے لیے بھی حلال ہیں۔ کیا تم نہیں جانتے کہ اگر ایک آدمی اپنا مکان ایک غنی پر وقف کردیا ۔ تو یہ جائز ہے اور اس کا غناء اس کے استعمال سے مانع نہ بنے گا اور اس کا حکم تمام صدقات جو زکوۃ و کفارات اور وہ صدقات جو تقرب الی اللہ کے لیے دیے جائیں ان سے مختلف ہے۔ پس اسی طرح جو شخص بنی ہاشم سے ہو اس کے لیے حلال ہے اور اس کا حکم دیگر صدقات سے الگ ہے جن کا ہم نے تذکرہ کیا۔ پھر اس کے بعد جناب ہاسم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے بنی ہاشم کے لیے صدقہ کی حرمت ثابت ہے۔ ذیل میں وہ درج ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے ان اموال کا صدقات ہونا معلوم ہوتا ہے اس کا ایک قرینہ مونت عاملین وہ عاملین آپ کی زندگی میں کام کرنے والے لوگ تھے ان اموال سے آپ کے اہل استعمال کرتے تھے ان میں فاطمہ (رض) بنت رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تھیں جب وہ ان صدقات سے کھاتے تھے تو بنی ہاشم کے لیے حلال تھے تبھی ان کو استعمال کرتے تھے پس ثابت ہوا سبھی صدقات ان کے لیے حلال ہیں۔
الجواب : ان صدقات کی حیثیت صدقات اوقاف جیسی تھی اور اوقاف کے صدقات اغنیاء کو بھی حلال ہیں جیسے کہ آدمی اگر اپنا گھر کسی غنی آدمی کو وقف کر دے تو یہ جائز ہے اور اس کی غناء اس میں مانع نہ ہوگی اور اس کا حکم زکوۃ و کفارات کے صدقات سے مختلف ہے بالکل اسی طرح یہ بنی ہاشم کے لیے بھی حلال ہے۔