۲۹۰ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ بَشَّارٍ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، عَنْ جَبَلَۃَ بْنِ سُحَیْمٍ قَالَ : سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْمَنِیِّ یُصِیْبُ الثَّوْبَ قَالَ " انْضَحْہُ بِالْمَائِ " .فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَکُوْنَ أَرَادَ بِالنَّضْحِ ، الْغُسْلَ ، لِأَنَّ النَّضْحَ قَدْ یُسَمَّیْ غَسْلًا ، قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ( إِنِّی لَأَعْرِفُ مَدِیْنَۃً یَنْضَحُ الْبَحْرُ بِجَانِبِہَا ) یَعْنِیْ یَضْرِبُ الْبَحْرُ بِجَانِبِہَا .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ ابْنُ عُمَرَ ، أَرَادَ غَیْرَ ذٰلِکَ .
٢٩٠: جبلہ بن سحیم کہتے ہیں کہ میں نے حضرت ابن عمر (رض) سے اسی منی کے متعلق سوال کیا جو کپڑے کو لگ جائے تو فرمایا اس کو پانی سے دھو ڈال۔ اس میں یہ بھی جائز ہے کہ نضح کا معنی غسل (ڈھونا) ہو کیونکہ نضح کا غسل پر بھی اطلاق ہوتا ہے جیسا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ((انی اعرف مدینۃ لیضح البحر بجانبھا)) یعنی میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کے ایک کنارے کو سمندر ٹکراتا ہے اور یہ بھی احتمال ہے کہ ابن عمر (رض) نے اس سے اور کچھ مراد لی ہو۔
تخریج : مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٣
اس روایت میں دو احتمال ہیں نمبر ١: نضح سے دھونا مراد لیا جائے کیونکہ نضح اس معنی میں مستعمل ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ” انی لاعرف مدینۃ ینضح البحر بجانبھا “ اس روایت کو مسند احمد ١؍٤٤ میں حضرت ابوبکر صدیق (رض) سے نقل کیا گیا ہے۔ اور ابن عمر (رض) سے مسند احمد ٢؍٣٠ میں ” عمان “ کے اضافے کے ساتھ مذکور ہے معنی یہ ہے میں ایک ایسے شہر کو جانتا ہوں جس کے پہلو میں سمندر لہریں مارتا ہے۔
دوسرا احتمال :
ممکن ہے کہ ابن عمر (رض) کی مراد چھڑکنا ہو۔