۲۹۰۸ : وَحَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا مَعْرُوْفُ بْنُ وَاصِلٍ السَّعْدِیُّ‘ قَالَ : حَدَّثَتْنَا حَفْصَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فِیْ سَنَۃِ تِسْعِیْنَ‘ قَالَ ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ فِیْ حَدِیْثِہِ ابْنَۃُ طَلْقٍ تَقُوْلُ : ثَنَا (رُشَیْدُ بْنُ مَالِکٍ أَبُوْ عَمِیْرَۃَ‘ قَالَ : کُنَّا عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأُتِیَ بِطَبَقٍ عَلَیْہِ تَمْرٌ فَقَالَ أَصَدَقَۃٌ أَمْ ہَدِیَّۃٌ ؟ قَالَ : بَلْ صَدَقَۃٌ‘ فَوَضَعَہٗ بَیْنَ یَدَیَ الْقَوْمِ وَالْحَسَنُ یَتَعَفَّرُ بَیْنَ یَدَیْہٖ‘ فَأَخَذَ الصَّبِیُّ تَمْرَۃً فَجَعَلَہَا فِیْ فِیْہِ .فَأَدْخَلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِصْبَعَہٗ وَجَعَلَ یَتَرَفَّقُ بِہٖ، فَأَخْرَجَہَا فَقَذَفَہَا ثُمَّ قَالَ إِنَّا - آلَ مُحَمَّدٍ - لَا نَأْکُلُ الصَّدَقَۃَ) .
٢٩٠٨: معروف بن واصل السعدی کہتے ہیں کہ ہمیں حفصہ (رض) نے ٩٠ ھ میں بیان کیا ابن ابی داؤد نے اپنی روایت میں کہا کہ طلاق کی بیٹی کہتی ہے کہ ہمیں رشید بن مالک ابو عمیر نے بیان کیا کہ ہم جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس تھے کہ ایک کھجور کا تھال لایا گیا آپ نے دریافت فرمایا کیا یہ صدقہ ہے یا ہدیہ ؟ اس نے کہا صدقہ۔ آپ نے اسے لوگوں کے سامنے رکھ دیا اور حسن آپ کے سامنے مٹی میں کھیل رہے تھے بچے نے ایک کھجور منہ میں رکھ لی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی انگلی اس کے منہ میں ڈالی اور اس سے نرمی کرنے لگے تاکہ وہ نکال دے تو اس نے نکال دی آپ نے اسے پھینک دیا اور فرمایا ہم آل محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) صدقہ نہیں کھاتے۔
تخریج : مسند احمد ٣؍٤٩٠۔