۲۹۱۴ : حَدَّثَنَا بِذٰلِکَ فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَعِیْدٍ الْأَصْبَہَانِیُّ‘ قَالَ : أَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ مَنْصُوْرٍ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ عَنِ الْأَسْوَدِ‘ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ (دَخَلَ عَلَیَّ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَفِی الْبَیْتِ‘ رِجْلُ شَاۃٍ مُعَلَّقَۃٍ‘ فَقَالَ مَا ھٰذِہٖ؟ فَقُلْتُ : تُصُدِّقَ بِہٖ عَلٰی بَرِیْرَۃَ فَأَہْدَتْہُ لَنَا .فَقَالَ ہُوَ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ‘ وَہُوَ لَنَا ہَدِیَّۃٌ ثُمَّ أَمَرَ بِہَا فَشُوِیَتْ) .
٢٩١٤: اسود نقل کرتے ہیں کہ عائشہ (رض) نے فرمایا جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میرے ہاں تشریف لائے بکری کی ایک دستی لٹکی ہوئی تھی آپ نے فرمایا یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا یہ بریرہ کو بطور صدقہ ملی تھی اس نے ہمیں ہدیہ کی ہے تو آپ نے فرمایا وہ اس پر تو صدقہ ہے اور ہمارے لیے ہدیہ (کا حکم رکھتی) ہے پھر اس کو بھوننے کا حکم فرمایا وہ بھونی گئی (آپ نے تناول فرمائی) ۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٦١‘ ٦٢‘ الہبہ باب ٧‘ النکاح باب ١٨‘ الطلاق باب ١٤‘ ١٧‘ الفرائض باب ١٩‘ مسلم فی الزکوۃ ١٧٠؍١٧١‘ العتق ١٠‘ ١١‘ ١٤‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٣٠‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٩٩‘ الطلاق باب ٦‘ ٢٩‘ ٣٠‘ والعمرٰی باب ٥‘ البیوع باب ٧٨‘ ابن ماجہ فی الطلاق باب ٢٩‘ دارمی فی الطلاق باب ١٥‘ موطا مالک ٢٥‘ مسند احمد ١‘ ٢٨١‘ ٣٦١‘ ٣‘ ١١٧‘ ١٣٠‘ ٦‘ ٤٦‘ ١١٥۔