۲۹۳ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ بْنُ عَبْدِ الْوَارِثِ قَالَ : ثَنَا أَبَیٌّ قَالَ : ثَنَا حُسَیْنُ اڑلْمُعَلِّمُ عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِیْ کَثِیْرٍ عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ ، عَنْ زَیْدِ بْنِ خَالِدِ ڑ الْجُہَنِیِّ ، أَنَّہُ (سَأَلَ عُثْمَانَ بْنَ عَفَّانَ عَنِ الرَّجُلِ یُجَامِعُ ، فَلَا یُنْزِلُ قَالَ : لَیْسَ عَلَیْہِ إِلَّا الطُّہُوْرُ ثُمَّ قَالَ : سَمِعْتہ مِنَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ).قَالَ : وَسَأَلْتُ عَلِیَّ بْنَ أَبِیْ طَالِبٍ ، وَالزُّبَیْرَ بْنَ الْعَوَّامِ ، وَطَلْحَۃَ بْنَ عُبَیْدِ اللّٰہِ وَأُبَیَّ بْنَ کَعْبٍ ، فَقَالُوْا ذٰلِکَ .قَالَ : وَأَخْبَرَنِیْ أَبُوْ سَلَمَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ عُرْوَۃُ أَنَّہٗ سَأَلَ أَبَا أَیُّوْبَ ، فَقَالَ ذٰلِکَ .
٢٩٣: نمبر ١: حضرت زید بن خالد الجہنی (رض) کہتے ہیں کہ میں نے حضرت عثمان بن عفان (رض) سے دریافت کیا کہ جو آدمی جماع کرے اور انزال نہ ہو ؟ تو انھوں نے جواب دیا اس پر وضو لازم ہے پھر کہنے لگے یہ بات میں نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی ہے زید کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب اور زبیر بن العوام اور طلحہ بن عبیداللہ ‘ ابی بن کعب (رض) سے سوال کیا تو انھوں نے بھی یہی جواب دی۔
زید کہتے ہیں مجھے ابو سلمہ نے بتلایا کہ انھیں عروہ نے بیان کیا کہ میں نے ابو ایوب انصاری سے یہی سوال کیا تو انھوں نے اسی طرح جواب دیا۔
تخریج : بخاری فی الغسل باب ٢٩‘ مسلم فی الحیض روایت ٨٦‘
خلاصہ الزام : التقاء ختانین سے جمہور الضار غسل کے شروع میں قائل نہ تھے جمہور مہاجرین غسل کے قائل تھے دور فاروقی میں اجماع صحابہ (رض) سے یہ فیصلہ ہوا کہ التقاء ختانین سے غسل واجب ہے۔ نمبر ٢ زمانہ تابعین میں داؤد ظاہری اور عطاء بن رباح وغیرہ التقاء ختانین کی وجہ سے غسل کے وجوب کے قائل نہ تھے جبکہ جمہور فقہاء اور ائمہ اربعہ التقاء ختانین کی وجہ سے غسل کے قائل تھے۔
فریق اول : کی مستدل روایات جو نو صحابہ کرام (رض) سے دس اسناد کے ساتھ ترتیب وارد ذکر کی گئی ہیں۔