۲۹۳۷ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ ہَارُوْنَ بْنِ رِئَابٍ‘ عَنْ کِنَانَۃَ بْنِ نُعَیْمٍ‘ (عَنْ قَبِیْصَۃَ بْنِ الْمُخَارِقِ أَنَّہٗ تَحَمَّلَ بِحَمَالَۃٍ‘ فَأَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَہٗ فِیْہَا فَقَالَ نُخْرِجُہَا عَنْکَ مِنْ اِبِلِ الصَّدَقَۃِ‘ أَوْ نَعَمِ الصَّدَقَۃِ .یَا قَبِیْصَۃُ إِنَّ الْمَسْأَلَۃَ حَرُمَتْ إِلَّا فِیْ ثَلاَثٍ‘ رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَۃٍ فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُؤَدِّیَہَا ثُمَّ یُمْسِکُ‘ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ جَائِحَۃٌ فَاجْتَاحَتْ مَالَہٗ، فَحَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ‘ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ‘ وَرَجُلٍ أَصَابَتْہُ حَاجَۃٌ حَتّٰی تَکَلَّمَ ثَلاَثَۃٌ مِنْ ذَوِی الْحِجَا مِنْ قَوْمِہِ أَنْ حَلَّتْ حَلَّتْ لَہُ الْمَسْأَلَۃُ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ‘ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ ثُمَّ یُمْسِکُ‘ وَمَا سِوٰی ذٰلِکَ مِنَ الْمَسْأَلَۃِ فَہُوَ سُحْتٌ) .
٢٩٣٧: کنانہ بن نعیم نے قبیصہ بن مخارق (رض) سے نقل کیا ہے کہ میں نے ایک ذمہ داری اٹھائی اور اس سلسلہ میں جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ سے سوال کیا تو آپ نے فرمایا تم اس کو صدقہ کے اونٹوں سے لے لینا۔ ابل الصدقہ یا نعم الصدقہ کا لفظ فرمایا۔
پھر فرمایا اے قبیصہ سوال تین آدمیوں کو درست ہے۔
نمبر 1: جس آدمی نے کسی کی ضمانت اٹھائی وہ اس پر پڑگئی وہ اس وقت تک سوال کرسکتا ہے جب تک اس کی ادائیگی کرنا ہوگی۔
نمبر 2: وہ آدمی جس کو کوئی آسمانی آفت پہنچی جس سے اس کا مال جاتا رہا اس کو اس وقت تک سوال درست ہے یہاں تک کہ گزر اوقات یا مناسب گزارا پالے پھر وہ رک جائے۔
نمبر 3: وہ آدمی جس کو کوئی ضرورت پیش آئی اس نے اپنی قوم کے تین عقل مند آدمیوں سے اس کے پیش آنے کی بات کی اس سے وہ محتاج ہوگیا تو اس کو اس وقت تک سوال درست ہے جب تک مناسب گزر اوقات نہ پالے یا ضرورت پوری ہوجائے پھر وہ سوال سے رک جائے ان کے علاوہ سوال جہنم کی آگ ہے۔
تخریج : مسلم فی الزکوۃ ١٠٩‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٦‘ نمبر ١٦٤٠‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٨٠‘ دارمی فی الزکوۃ باب ٣٧‘ مسند احمد ٣؍٤٧٧۔