۲۹۳۹ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا الْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْہَالِ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ ہَارُوْنَ بْنِ رِئَابٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ ، وَزَادَ (رَجُلٍ تَحَمَّلَ بِحَمَالَۃٍ عَنْ قَوْمِہِ أَرَادَ بِہَا الْاِصْلَاحَ) .فَأَبَاحَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ لِذِی الْحَاجَۃِ أَنْ یَسْأَلَ لِحَاجَتِہٖ‘ حَتّٰی یُصِیْبَ قِوَامًا مِنْ عَیْشٍ‘ أَوْ سِدَادًا مِنْ عَیْشٍ .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الصَّدَقَۃَ لَا تَحْرُمُ بِالصِّحَّۃِ اِذَا أَرَادَ بِہَا الَّذِیْ تُصُدِّقَ بِہَا عَلَیْہِ سَدَّ فَقْرٍ .وَإِنَّمَا تَحْرُمُ عَلَیْہِ اِذَا کَانَ یُرِیْدُ بِہَا غَیْرَ ذٰلِکَ مِنَ التَّکَثُّرِ وَنَحْوِہٖ‘ وَمَنْ یُرِیْدُ بِہَا ذٰلِکَ‘ فَہُوَ مِمَّنْ یَطْلُبُہَا لِسِوَی الْمَعَانِی الثَّلَاثَۃِ الَّتِیْ ذَکَرَہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ حَدِیْثِ قَبِیْصَۃَ بْنِ مُخَارِقٍ‘ الَّذِیْ ذَکَرْنَا‘ فَہُوَ عَلَیْہِ سُحْتٌ .وَقَدْ رَوٰی سَمُرَۃُ أَیْضًا مِثْلَ ذٰلِکَ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .
٢٩٣٩: حماد بن سلمہ نے ہارون بن رئاب سے پھر انھوں نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے البتہ اس میں یہ اضافہ ہے کہ کسی آدمی نے کسی قوم کا ذمہ اصلاح کے لیے اٹھایا۔ اس ارشاد میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت والے کے لیے مباح کردیا کہ وہ اپنی حاجت کے متعلق سوال کرے اور اس وقت تک سوال کرسکتا ہے ‘ جب تک کہ مناسب گزر اوقات یا بہتر حالت گزران نہ پالے۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ صدقہ صحت کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا جب کہ وہ شخص جس کو صدقہ دیا گیا ہے وہ اپنی فقر والی حالت کا ازالہ چاہتا ہو ۔ وہ بلاشبہ اس پر اس وقت حرام ہوگا جب کہ اس کا مقصد مال میں کثرت کرنا وغیرہ ہو اور جس کا یہ ارادہ ہو وہ ان لوگوں سے ہے۔ جو ان مقاصد کے علاوہ ماننے والوں سے ہے ‘ جن کا تذکرہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیصہ بن مخارق (رض) والی روایت میں فرمایا وہ صدقہ اس مانگنے والے کے لیے نری آگ ہے۔ حضرت سمرہ (رض) سے بھی جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے۔ جو ذیل میں ہے۔
حاصل روایات : اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حاجت مند کے لیے سوال کو درست قرار دیا یہاں تک کہ وہ مناسب گزر اوقات پالے اور اس کی ضرورت پوری ہوجائے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ صدقہ صحت مند ہونے کی وجہ سے حرام نہیں ہوتا جبکہ اس سے اس کی ضرورت فقر کو پورا کرنا مقصود ہو حرام اس وقت ہے جبکہ اس سے مال کو بڑھانے وغیرہ کا ارادہ کیا جائے اور جو آدمی اس کے علاوہ کسی غرض کے لیے حاصل کرنا ہے وہ اس کے لیے آگ اور حرام ہے۔