۲۹۵۰ : وَحَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ‘ قَالَا جَمِیْعًا : عَنْ سُفْیَانَ‘ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ جُبَیْرٍ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ النَّخَعِیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنِ ابْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَا یَسْأَلُ عَبْدٌ مَسْأَلَۃً‘ وَلَہٗ مَا یُغْنِیْہِ إِلَّا جَائَ تْ شَیْنًا‘ أَوْ کُدُوْحًا‘ أَوْ خُدُوْشًا‘ فِیْ وَجْہِہٖ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ .قِیْلَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ وَمَاذَا غِنَاہٗ؟ قَالَ خَمْسُوْنَ دِرْہَمًا وَحِسَابُہَا مِنَ الذَّہَبِ) .
٢٩٥٠: عبدالرحمن بن یزید نخعی نے اپنے والد سے انھوں نے عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت کی ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا۔ جب کوئی بندہ ایسی حالت میں سوال کرتا ہے جبکہ اس کے پاس ایسی چیز موجود ہے جو اس کو مستغنی کرسکتی ہے وہ اس کے لیے قیامت کے دن چہرے پر خراش و زخم ہوگا کسی نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ۔ اس کی غناء کیا ہے فرمایا پچاس درہم اور اس کا حساب سونے سے ہوگا۔
تخریج : ابن ماجہ فی الزکوۃ باب ٢٦‘ نمبر ١٨٤٠۔