hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2952

.

الطحاوي

2952
Al Tahawi
۲۹۵۲ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بِشْرٍ الرَّقِّیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَیُّوْبُ بْنُ سُوَیْدٍ‘ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ یَزِیْدَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ رَبِیْعَۃُ بْنُ یَزِیْدَ عَنْ أَبِیْ کَبْشَۃَ السَّلُوْلِیِّ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ سَہْلُ بْنُ الْحَنْظَلِیَّۃِ‘ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَقُوْلُ (مَنْ سَأَلَ النَّاسَ عَنْ ظَہْرِ غِنًی‘ فَإِنَّمَا یَسْتَکْثِرُ مِنْ جَمْرِ جَہَنَّمَ .قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ وَمَا ظَہْرُ غِنًی؟ قَالَ أَنْ یَعْلَمَ أَنَّ عِنْدَ أَہْلِہٖ مَا یُغَدِّیْہِمْ‘ أَوْ مَا یُعَشِّیْہِمْ) .
٢٩٥٢: ابو کبشہ سلولی نے کہا مجھے سہل بن الحنظلیہ نے بیان کیا اس نے کہا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا جو شخص مالدار ہو کہ لوگوں سے مانگتا پھرتا ہے وہ اپنے لیے جہنم کے انگاروں کا ڈھیر بنا رہا ہے میں نے عرض کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! مالداری کیا ہے ؟ فرمایا وہ جانتا ہو کہ اس کے اہل میں اتنی چیزیں ہیں جو ان کو صبح یا شام کافی ہوسکتی ہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢٤‘ نمبر ١٦٢٩۔