hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2961

.

الطحاوي

2961
Al Tahawi
۲۹۶۱ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا عَلِیُّ بْنُ مَعْبَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا إِسْمَاعِیْلُ بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ الْأَنْصَارِیُّ‘ عَنْ عُمَرَ ابْنِ نُبَیْہٍ الْکَعْبِیِّ‘ عَنِ الْمَقْبُرِیِّ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِنْصَرَفَ مِنَ الصُّبْحِ یَوْمًا‘ فَأَتٰی عَلَی النِّسَائِ فِی الْمَسْجِدِ فَقَالَ یَا مَعْشَرَ النِّسَائِ ‘ مَا رَأَیْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِیْنٍ أَذْہَبَ بِعُقُوْلِ ذَوِی الْأَلْبَابِ مِنْکُنَّ‘ وَإِنِّیْ قَدْ رَأَیْتُ أَنَّکُنَّ أَکْثَرُ أَہْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ‘ فَتَقْرَبْنَ إِلَی اللّٰہِ بِمَا اسْتَطَعْتُنَّ .وَکَانَ فِی النِّسَائِ امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا‘ فَانْقَلَبَتْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ فَأَخْبَرَتْہُ بِمَا سَمِعَتْ مِنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَخَذَتْ حُلِیًّا لَہَا .فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَیْنَ تَذْہَبِیْنَ بِھٰذَا الْحُلِیِّ ؟ فَقَالَتْ : أَتَقَرَّبُ بِہٖ إِلَی اللّٰہِ وَإِلٰی رَسُوْلِہٖ، لَعَلَّ اللّٰہَ أَنْ لَا یَجْعَلَنِیْ مِنْ أَہْلِ النَّارِ .قَالَ : ہَلُمِّیْ بِذٰلِکَ وَیْلَک تَصَدَّقِیْ بِہٖ عَلَیَّ وَعَلٰی وَلَدِیْ فَقَالَتْ : لَا وَاللّٰہِ‘ حَتّٰی أَذْہَبَ بِہٖ إِلَی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَذَہَبَتْ تَسْتَأْذِنُ عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ فَقَالُوْا : یَا رَسُوْلَ اللّٰہٖ؟ ھٰذِہِ زَیْنَبُ تَسْتَأْذِنُ‘ فَقَالَ أَیُّ الزَّیَانِبِ ہِیَ ؟ قَالُوْا : امْرَأَۃُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ. فَدَخَلَتْ عَلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ : إِنِّیْ سَمِعْتُ مِنْکَ مَقَالَۃً‘ فَرَجَعْتُ إِلَی ابْنِ مَسْعُوْدٍ فَحَدَّثْتُہٗ‘ فَأَخَذْتُ حُلِیِّیْ أَتَقَرَّبُ بِہٖ إِلَی اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ‘ وَإِلَیْکَ‘ رَجَائَ أَنْ لَا یَجْعَلَنِی اللّٰہُ مِنْ أَہْلِ النَّارِ .فَقَالَ ابْنُ مَسْعُوْدٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : تَصَدَّقِیْ بِہٖ عَلَیَّ وَعَلٰی بَنِیَّ‘ فَإِنَّا لَہٗ مَوْضِعٌ‘ فَقُلْتُ لَہٗ : حَتّٰی أَسْتَأْذِنَ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ تَصَدَّقِیْ بِہٖ عَلَیْہِ وَعَلٰی بَنِیْہٖ‘ فَإِنَّہُمْ لَہٗ مَوْضِعٌ) .
٢٩٦١: مقبری نے ابوہریرہ (رض) سے روایت کی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک صبح کی نماز سے لوٹے تو مسجد میں عورتوں والی جگہ سے گزر ہوا تو آپ نے ان کو فرمایا۔ اے عورتوں کی جماعت میں خیال کرتا ہوں کہ تم دین و عقل میں ناقص ہو مگر بڑے بڑے عقلاء کی عقلوں کو اڑا دیتی ہو اور میں نے دیکھا کہ تمہاری اکثریت جہنم میں قیامت کے دن ہوگی پس تمہیں مناسب ہے کہ جس قدر ہو سکے تم اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرو۔ ان میں ابن مسعود (رض) کی بیوی بھی تھیں وہ عبداللہ کی طرف لوٹ آئیں اور ان کو اس بات کی اطلاع دی جو اس نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے سنی تھی اور اپنے زیورات لیے تو ابن مسعود (رض) کہنے لگے یہ زیور کہاں لے جاؤ گی اس نے جواب دیا میں اس سے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا قرب حاصل کروں گی شاید کہ میں اس سے جہنم سے بچ جاؤں عبداللہ کہنے لگے اس کو روکو ! تمہارا ناس ہو ! اور مجھ پر اور میری اولاد پر خرچ کرو زینب کہنے لگی اللہ کی قسم میں ایسا نہ کروں گی جب تک کہ میں ان کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں نہ لے جاؤں۔ چنانچہ وہ گئیں اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت طلب کی جو حضرات اندر تھے انھوں نے بتلایا کہ زینب آئی ہیں ! اور آپ کے ہاں آنے کی اجازت چاہتی ہیں آپ نے فرمایا یہ کون سی زینب ہے ؟ انھوں نے بتلایا یہ عبداللہ بن مسعود (رض) کی بیوی ہیں (اجازت ملنے پر) وہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں داخل ہوئیں۔ اور عرض کی میں نے آپ کا ارشاد سنا ہے میں ابن مسعود (رض) کے ہاں گئی اور اس کو آپ کی بات ذکر کی پھر میں اپنا زیور لائی ہوں تاکہ اس سے میں اللہ تعالیٰ کا قرب اور آپ کا قرب (تعمیل ارشاد) حاصل کروں اس امید پر کہ اللہ تعالیٰ مجھے جہنم سے محفوظ کر دے۔ مگر ابن مسعود (رض) کہتا ہے کہ اس مال کو مجھ پر اور میری اولاد پر خرچ کرو میں اس کا حقدار ہوں میں نے اس کی بات سن کر کہا یہ اس وقت تک نہیں ہوسکتا جب تک جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اجازت نہ لے لوں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تم اس پر اور اس کی اولاد پر خرچ کرو ‘ وہ اس کے خرچ کا محل ہیں۔
تخریج : مسند احمد ٢؍٣٧٣‘ ٣٧٤۔