۲۹۶۳ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ‘ عَنْ سُہَیْلِ بْنِ أَبِیْ صَالِحٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَکَرَ الْخَیْلَ فَقَالَ ہِیَ لِثَلاَثَۃٍ‘ لِرَجُلٍ أَجْرٌ‘ وَلِرَجُلٍ سِتْرٌ‘ وَعَلٰی رَجُلٍ وِزْرٌ‘ فَأَمَّا الَّذِیْ ہِیَ لَہٗ سِتْرٌ‘ فَالرَّجُلُ یَتَّخِذُہَا تَکَرُّمًا وَتَجَمُّلًا‘ وَلَا یَنْسٰی حَقَّ ظُہُوْرِہَا وَبُطُوْنِہَا فِیْ عُسْرِہَا وَیُسْرِہَا).
٢٩٦٣: سہیل بن ابی صالح نے اپنے والد سے انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے گھوڑے کا ذکر فرمایا کہ وہ تین قسم ہیں۔
نمبر 1: آدمی کے لیے اجر کا باعث ہے۔
نمبر 2: آدمی کے لیے باعث ستر ہے۔
نمبر 3: آدمی کے لیے بوجھ ہے وہ گھوڑا جو ستر کا باعث ہے وہ جس کو عزت و جمال کے لیے پالا ہو اور اس میں وہ گھوڑے کا حق نہ بھولتا ہو اس کو خوب خوراک اور مناسب سواری و بار برداری کرتا ہو جو تنگ دست ہو یا خوش حال۔ (اجر والا جو جہاد وغیرہ دینی مقاصد کے لیے پالا جائے اور بوجھ وہ گھوڑا جو ریاکاری اور دکھلاوے کے لیے پالا جائے) ۔
تخریج : بخاری فی الشرب باب ١٢‘ والجہاد باب ٤٨‘ والمناقب باب ٢٨‘ و تفسیر سورة نمبر ٩٩‘ باب ١‘ وا؛اعتصا، باب ٢٤‘ مسلم فی الزکوۃ نمبر ٢٤‘ ٢٦‘ ترمذی فی فضائل الجہاد باب ١٠‘ نسائی فی الحیل باب ١‘ ابن ماجہ فی الجہاد باب ١٤‘ مالک فی الجہاد ٣‘ مسند احمد ٢؍٢٦٢‘ ٣٨٣۔
جن گھوڑوں کو خود چارہ ڈالا جائے اور جہاد اور گھریلو استعمال کے لیے ہوں ان میں بالکل زکوۃ نہیں اور تجارتی گھوڑوں میں بالاتفاق زکوۃ ہے جن گھوڑوں کا گھریلو چارے پر گزارا ہو خواہ نسل کے لیے پالیں ان پر بھی زکوۃ نہیں اسی طرح جہادی گھوڑوں پر بھی زکوۃ نہیں چرنے والے تجارتی گھوڑوں پر بالاتفاق زکوۃ ہے اور فقط نر ہی ہوں تب بھی زکوۃ نہیں البتہ ایسے گھوڑے جن کا چرنے پر گزر ہو اور نر و مادہ دونوں ہوں اور نسل کشی کے لیے پالے جائیں۔ ! ان میں امام ابوحنیفہ (رح) و زفر (رح) کے ہاں زکوۃ لازم ہے " اور ائمہ ثلاثہ اور صاحبین کے ہاں زکوۃ لازم نہیں۔