۲۹۶۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ ہِشَامُ بْنُ سَعْدٍ‘ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی وُجُوْبِ الصَّدَقَۃِ فِی الْخَیْلِ‘ اِذَا کَانَتْ ذُکُوْرًا وَإِنَاثًا‘ وَکَانَ صَاحِبُہَا یَلْتَمِسُ نَسْلَہَا .وَاحْتَجُّوْا فِیْ إِیْجَابِہِمُ الزَّکَاۃَ فِیْہَا بِقَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (وَلَمْ یَنْسَ حَقَّ اللّٰہِ فِیْہَا) .قَالُوْا : فَفِیْ ھٰذَا دَلِیْلٌ أَنَّ لِلّٰہِ فِیْہَا حَقًّا‘ وَہُوَ کَحَقِّہٖ فِیْ سَائِرِ الْأَمْوَالِ الَّتِیْ یَجِبُ فِیْہَا الزَّکَاۃُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا رُوِیَ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٢٩٦٥: ہشام بن سعد نے زید بن اسلم سے پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء اس طرف گئے ہیں کہ گھوڑوں میں صدقہ لازم ہے جب کہ نر و مادہ دونوں مخلوط ہوں اور ان کا مالک ان کی نسل کشی چاہتا ہو۔ انھوں نے وجوب زکوۃ کے لیے اس ارشاد نبوی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے استدلال کیا ” ولم ینس حق اللہ فیھا “ ان کا کہنا ہے۔ اس میں دلیل ہے کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا حق ہے۔ وہ لزوم زکوۃ میں دیگر اموال کی طرح ہیں اور انھوں حضرت عمر (رض) کی روایت سے بھی استدلال کیا جو ذیل میں ہے۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے۔ ولم ینس حق اللہ فیہا کا جملہ اس لیے لایا گیا کہ ان میں اللہ تعالیٰ کا حق واجب بتلایا جائے اگر وہ اس کا خیال نہ کرے گا تو اس پر بوجھ رہے گا اللہ تعالیٰ کا حق تمام اموال میں زکوۃ ہے تو اس میں بھی اللہ تعالیٰ کا حق یہی ہوگا پس زکوۃ لازم ہوگی اس کی شہادت حضرت علی (رض) کے عمل سے ملتی ہے ملاحظہ ہو۔