hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2974

.

الطحاوي

2974
Al Tahawi
۲۹۷۴ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا یَعْقُوْبُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِیْ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ طَہْمَانَ عَنْ أَبِیْ إِسْحَاقَ عَنِ الْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مِثْلَہٗ .فَذٰلِکَ أَیْضًا یَنْفِیْ أَنْ یَّکُوْنَ فِی الْخَیْلِ صَدَقَۃٌ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَقَدْ قَرَنَ مَعَ ذٰلِکَ الرَّقِیْقَ‘ فَلَمَّا کَانَ ذٰلِکَ لَا یَنْفِیْ أَنْ تَکُوْنَ الصَّدَقَۃُ وَاجِبَۃً فِی الرَّقِیْقِ اِذَا کَانُوْا لِلتِّجَارَۃِ‘ فَکَذٰلِکَ لَا یَنْفِیْ ذٰلِکَ أَنْ تَکُوْنَ الزَّکَاۃُ وَاجِبَۃً فِی الْخَیْلِ اِذَا کَانَتْ سَائِمَۃً .وَکَمَا کَانَ قَوْلُہٗ (قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنْ صَدَقَۃِ الرَّقِیْقِ) إِنَّمَا ہُوَ عَلَی الرَّقِیْقِ لِلْخِدْمَۃِ خَاصَّۃً‘ فَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (قَدْ عَفَوْتُ لَکُمْ عَنْ صَدَقَۃِ الْخَیْلِ) إِنَّمَا ہُوَ عَلٰی خَیْلِ الرُّکُوْبِ خَاصَّۃً .قِیْلَ لَہٗ : ھٰذَا یَحْتَمِلُ مَا ذَکَرْتُ، وَإِذَا بَطَلَ أَنْ یَنْتَفِیَ الزَّکَاۃُ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ‘ انْتَفَتْ بِمَا ذَکَرْنَا قَبْلَہٗ، مِمَّا فِیْ حَدِیْثِ حَارِثَۃَ‘ لِأَنَّ فِیْہِ أَنَّ عَلِیًّا قَالَ لِعُمَرَ مَا قَدْ ذَکَرْنَا‘ فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ مَعْنٰی قَوْلِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ھٰذَا‘ کَانَ عِنْدَ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَلٰی نَفْیِ الزَّکٰوۃِ مِنْہَا‘ وَإِنْ کَانَتْ سَائِمَۃً .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا مَعْنَاہُ قَرِیْبٌ مِنْ مَعْنٰی حَدِیْثِ عَاصِمٍ‘ وَالْحَارِثِ عَنْ عَلِیٍّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٢٩٧٤: ابو اسحاق نے حارث سے انھوں نے جناب علی (رض) سے ‘ انھوں نے نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح نقل کیا ہے یہ تمام روایات بھی گھوڑوں میں صدقہ فرضیہ کی نفی کرتی ہیں۔ یہ روایت بھی گھوڑوں میں زکوۃ کے لازم ہونے کے منافی ہے اگر کوئی معترض یہ کہے کہ ان کو غلاموں کے ساتھ ملا کر ذکر کیا گیا ہے اور جب غلام تجارت کے لیے ہوں تو اس وقت وجوب زکوۃ کی نفی نہیں ہوتی اسی طرح چرنے والے گھوڑوں سے بھی زکوۃ کی نفی نہیں ہوتی اور آپ کا ارشاد گرامی کہ میں نے تم سے صدقہ کو معاف کردیا یہ خدمت کے غلاموں کے ساتھ مخصوص ہے۔ اسی طرح آپ کا ارشاد تم سے گھوڑوں کا صدقہ معاف کردیا یہ سواری کے گھوڑوں کے ساتھ خاص ہے۔ اس کے جواب میں عرض کریں گے۔ اگر آپ نے جو احتمال ذکر کیا یہ بھی بجا ہے۔ جب روایت سے زکوۃ کا انتفاء باطل ہوا تو جو ہم نے سابقہ سطور میں ذکر کیا ‘ اس سے اس کی نفی ہوجائے گی اور حدیث حارثہ میں یہ واضح طور پر موجود ہے کہ حضرت علی (رض) نے حضرت عمر (رض) سے کہا کہ اگر یہ بطور فرض جزیہ یا خراج کے طور پر وصول نہ کیا جائے تو اس کے لینے میں حرج نہیں ۔ تو حضرت علی (رض) کے اس قول سے گھوڑوں کی زکوۃ کی نفی مراد ہے اگرچہ وہ چرنے والے ہوں اور حضرت ابوہریرہ (رض) سے بھی اس کے ہم معنیٰ روایت وارد ہوئی ہے ۔۔ جو کہ حدیث عاصم اور حارث کی حضرت علی (رض) سے ملتی جلتی ہے۔ روایات ذیل میں ہیں۔
اس روایت پر اشکال :
گھوڑوں اور غلاموں کو اکٹھا ذکر فرمایا گیا ہے اور غلاموں میں جب تجارت کے ہوں تو زکوۃ لازم ہے اور اس ارشاد سے ان کی نفی نہیں ہوتی تو گھوڑے جب چرنے والے ہوں تو ان کی صدقہ واجب سے نفی کس طرح ثابت ہوگی۔
ازالہ :
ہم نے تسلیم کرلیا کہ اس سے زکوۃ کی نفی نہیں ہوتی تو زکوۃ کی نفی حدیث سے ثابت ہو رہی ہے کیونکہ اس میں یہ بات واضح موجود ہے کہ حضرت علی (رض) نے عمر (رض) کو یہ بات کہی اس سے ثابت ہوا کہ علی (رض) کے ہاں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قول کا مطلب ان سے سائمہ ہونے کے باوجود زکوۃ کی نفی تھی اور خود ابوہریرہ (رض) نے جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح کی روایت نقل کی ہے جس کا معنی عاصم ‘ حارث عن علی (رض) والی روایت کے قریب قریب ہیں۔
وہ روایت اگلی روایت ہے۔