hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2983

.

الطحاوي

2983
Al Tahawi
۲۹۸۳ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوَ الْوَلِیْدِ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلْمَۃَ‘ عَنْ حُمَیْدٍ‘ عَنِ الْحُسَیْنِ‘ عَنْ عُثْمَانَ بْنِ أَبِی الْعَاصِ (أَنَّ وَفْدَ ثَقِیْفٍ قَدِمُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَہُمْ لَا تُحْشَرُوْا وَلَا تُعْشَرُوْا) .
٢٩٨٣: حسین نے عثمان بن ابی العاص (رض) سے نقل کیا کہ وفد ثقیف جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا تو آپ نے فرمایا اپنے اموال و مواشی کو عامل کے لیے جمع مت کرو کہ وہ اس میں سے زکوۃ وصول کرلے اور عشر ادا کرنا تم پر لازم نہیں۔
تخریج : ابو داؤد فی الامارہ باب ٢٦‘ مسند احمد ٤؍٢١٨۔
لغات : لا تحشروا۔ عامل کے لیے اموال کو ایک جگہ جمع کرنا۔ لاتعشروا۔ عشر ادا مت کرو۔
اموال ظاہرہ مال مویشی اور عشری زمین کو کہتے ہیں اور اموال باطنہ سونا ‘ چاندی ‘ نقدی اور مالی تجارت کو کہا جاتا ہے صدقات واجبہ کو حاکم مسلمان کا نمائندہ وصول زبردستی کرسکتا ہے یا نہیں۔ ! حضرت حسن بصری ‘ ابراہیم نخعی رحمہم اللہ کے ہاں مسلمان حاکم زکوۃ زبردستی وصول نہیں کرسکتا لوگ خود حاکم تک پہنچائیں یا اس کا عامل لے یا لوگ غرباء تک خود پہنچا دیں ہر دو باتیں برابر ہیں۔
نمبر 2: ائمہ اربعہ اور جمہور فقہاء حاکم وقت کو اس سلسلے میں مختار مانتے ہیں احناف کے ہاں اموال ظاہرہ و باطنہ میں فرق نہیں وہ خود وصول کر کے بیت المال میں جمع کرے یا لوگوں کو فقراء تک پہنچانے کی خود اجازت دے دے۔