۲۹۸۹ : حَدَّثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ شُعَیْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا الْخَصِیْبُ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادٌ‘ عَنْ عَطَائِ بْنِ السَّائِبِ‘ (عَنْ حَرْبِ بْنِ عُبَیْدِ اللّٰہِ‘ عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَخْوَالِہِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَہٗ عَلَی الصَّدَقَۃِ‘ وَعَلَّمَہُ الْاِسْلَامَ‘ وَأَخْبَرَہٗ بِمَا یَأْخُذُ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ کُلُّ الْاِسْلَامِ قَدْ عَلِمْتَہٗ إِلَّا الصَّدَقَۃَ‘ أَفَأُعْشِرُ الْمُسْلِمِیْنَ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا یُعْشَرُ الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعَثَہٗ عَلَی الصَّدَقَۃِ‘ وَأَمَرَہٗ أَنْ لَا یُعَشِّرَ الْمُسْلِمِیْنَ‘ وَقَالَ لَہٗ : إِنَّمَا الْعُشُوْرُ عَلَی الْیَہُوْدِ وَالنَّصَارٰی .فَدَلَّ ذٰلِکَ أَنَّ الْعُشُوْرَ الْمَرْفُوْعَۃَ عَنِ الْمُسْلِمِیْنَ‘ ہِیَ خِلَافُ الزَّکٰوۃِ .وَمِمَّا یُبَیِّنُ ذٰلِکَ أَیْضًا۔
٢٩٨٩: عطاء بن السائب نے حرب بن عبیداللہ سے انھوں نے اپنے اخوال میں سے ایک آدمی سے بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو صدقہ کا عامل مقرر فرمایا اور اس کو اسلام کے احکام سکھائے اور اسے بتلایا اتنا کچھ تم نے لینا ہے اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) آپ نے صدقے کے سواء سارا اسلام سکھا دیا کیا میں عشر وصول کروں گا ؟ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا یہود و نصاریٰ پر دسواں حصہ ہے۔ اس روایت میں ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان کو صدقات پر مقرر فرمایا اور ان کو حکم فرمایا کہ وہ مسلمانوں دسواں کے حصہ وصول نہ کریں اور ارشاد فرمایا ٹیکس تو یہود و نصاری پر ہوتے ہیں۔ اس سے یہ دلالت مل گئی کہ وہ عشر جس کی معافی کا اعلان فرمایا وہ زکوۃ سے الگ چیز ہے۔ اس کی وضاحت حسین بن نصر کی روایت سے ہوتی ہے۔
تخریج : سابقہ تخریج ملاحظہ ہو۔
اس روایت میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو صدقات کا عامل بنایا اور مسلمانوں سے عشر نہ وصول کرنے کا حکم فرمایا اور فرمایا کہ کہ عشور تو یہودونصاریٰ پر ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مسلمانوں سے جو عشر اٹھایا گیا وہ زکوۃ کے علاوہ ہے اس سلسلہ میں مندرجہ روایت اس کی وضاحت کرتی ہے روایت یہ ہے۔