hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 2997

.

الطحاوي

2997
Al Tahawi
۲۹۹۷ : حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ نَصْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ نُعَیْمٍ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ الثَّوْرِیُّ‘ عَنْ عَمْرِو بْنِ یَحْیَی الْمَازِنِیِّ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ‘ قَالَ : قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (لَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسَۃِ أَوْسُقٍ صَدَقَۃٌ‘ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ ذَوْدٍ صَدَقَۃٌ‘ وَلَیْسَ فِیْمَا دُوْنَ خَمْسِ أَوَاقٍ صَدَقَۃٌ) .
٢٩٩٧: عروہ بن یحییٰ مازنی نے اپنے والد سے انھوں نے ابو سعید خدری (رض) سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا پانچ وسق سے کم مقدار اور پانچ اونٹ سے کم اونٹوں میں پانچ اوقیہ سے کم مقدار چاندی میں زکوۃ نہیں ہے۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٤‘ ٣٢‘ البیوع باب ٨٣‘ المساقاۃ باب ١٧‘ مسلم فی الزکوۃ نمبر ١‘ ٣‘ ٤‘ ٦‘ البیوع نمبر ٧١‘ ابو داؤد فی الزکوۃ باب ٢‘ ١‘ البیوع باب ٢٠‘ ٩٨‘ ٢٩٦‘ ترمذی فی الزکوۃ باب ٧‘ والبیوع باب ٦٣‘ نسائی فی الزکوۃ باب ٥‘ ١٨‘ ٢١‘ ابن ماجہ فی الزکوۃ باب ٦‘ دارمی فی الزکوۃ باب ١١‘ موطا فی الزکوۃ نمبر ١‘ ٢‘ البیوع نمبر ١٤‘ مسند احمد ٢؍٩٢‘ ٣؍٦‘ ٤٥‘ ٥٩‘ ٦٠۔

غلہ کی کتنی مقدار میں عشر لازم ہوگا۔
نمبر 1: ائمہ ثلاثہ اور ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ غلہ کی مقدار میں پانچ وسق سے کم میں زکوۃ نہیں مانتے پانچ وسق موجود وزن میں نو کو نٹل ٤٤ کلو ٧٨٤ گرام ہے۔
نمبر 2: امام ابوحنیفہ (رح) و ابراہیم نخعی حماد (رح) کے ہاں عشر ہر صورت میں لازم ہے خواہ پیداوار کم ہو یا زیادہ۔