۳۰۰ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ : ثَنَا وَہْبٌ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ ذَکْوَانَ ، أَبِیْ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ ( أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَرَّ عَلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، فَدَعَاہُ ، فَخَرَجَ إِلَیْہِ وَرَأْسُہُ یَقْطُرُ مَائً ، قَالَ : لَعَلَّنَا أَعْجَلْنَاک قَالَ : نَعَمْ .قَالَ : فَإِذَا أُعْجِلْتُ أَوْ أُقْحِطْتَ أَیْ فُقِدَ مَاؤُک فَعَلَیْکَ الْوُضُوْئُ).
٣٠٠: حضرت ابو سعید (رض) کہتے ہیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا گزر ایک انصاری کے گھر کے پاس سے ہوا آپ نے اس کو بلایا وہ گھر سے اس حال میں نکلا کہ اس کے سر سے پانی کے قطرات ٹپک رہے تھے آپ نے فرمایا شاید ہم نے تجھے جلدی میں ڈال دیا اس نے کہا جی ہاں۔ آپ نے فرمایا جب تم جلدی میں ڈالے جاؤ یا بلاخروج منی فارغ ہونا پڑے تو تم پر صرف وضو ہے۔
تخریج : بخاری فی الوضوء باب ٣٤‘ مسلم فی الحیض روایت ٨٣‘ ابن ماجہ فی الطھارۃ باب ١١٠‘ روایت ٦٠٦‘ مسند احمد ٣؍٢١‘ سنن کبرٰی بیہقی ١؍١٦٥‘ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٩