hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3010

.

الطحاوي

3010
Al Tahawi
۳۰۱۰ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْحَکَمُ بْنُ مُوْسٰی، قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ حَمْزَۃَ‘ عَنْ سُلَیْمَانَ بْنَ دَاوٗدَ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی الزُّہْرِیُّ‘ عَنْ أَبِیْ بَکْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ جَدِّہٖ (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَتَبَ إِلٰی أَہْلِ الْیَمَنِ بِکِتَابٍ‘ فِیْہِ الْفَرَائِضُ وَالسُّنَنُ‘ فَکَتَبَ فِیْہِ مَا سَقَتِ السَّمَائُ أَوْ کَانَ سَحًّا‘ أَوْ بَعْلًا فِیْہِ الْعُشْرُ اِذَا بَلَغَ خَمْسَۃَ أَوْسُقٍ‘ وَمَا سُقِیَ بِالرِّشَائِ أَوْ بِالدَّالِیَۃِ‘ فَفِیْہِ نِصْفُ الْعُشْرِ اِذَا بَلَغَ خَمْسَۃَ أَوْسُقٍ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ‘ فَقَالُوْا : لَا تَجِبُ الصَّدَقَۃُ فِیْ شَیْئٍ مِنَ الْحِنْطَۃِ وَالشَّعِیْرِ وَالتَّمْرِ وَالزَّبِیْبِ‘ حَتّٰی یَکُوْنَ خَمْسَۃَ أَوْسُقٍ .وَکَذٰلِکَ کُلُّ شَیْئٍ مِمَّا تُخْرِجُ الْأَرْضُ‘ مِثْلُ : الْحِمَّصِ‘ وَالْعَدَسِ‘ وَالْمَاشِّ‘ وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ‘ فَلَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِنْہُ صَدَقَۃٌ حَتّٰی یَبْلُغَ ھٰذَا الْمِقْدَارَ أَیْضًا .وَمِمَّنْ ذَہَبَ إِلٰی ذٰلِکَ أَبُوْ یُوْسُفَ‘ وَمُحَمَّدٌ رَحِمَہُمَا اللّٰہُ‘ وَأَہْلُ الْمَدِیْنَۃِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَأَوْجَبُوْا الصَّدَقَۃَ فِیْ قَلِیْلِ ذٰلِکَ أَوْ کَثِیْرِہٖ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ .
٣٠١٠: ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم نے اپنے والد اپنے دادا سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل کیا کہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اہل یمن کو ایک خط لکھا جس میں فرائض و سنن تھے اور اس میں یہ بھی لکھا تھا جس کو بارش سیراب کرے یا بہتا پانی سیراب کرے یا کھجور کا درخت نہر کے کنارے ہو اس میں عشر ہے جبکہ پانچ وسق کو پہنچ جائے اور جو اسی یا راہٹ سے پلایا جائے اس میں نصف عشر ہے بشرطیکہ مقدار پانچ وسق تک پہنچ جائے۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ علماء کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کیا کہ گندم ‘ جو ‘ کھجور ‘ کشمش جب تک پانچ وسق نہ ہوں ان میں صدقہ نہیں ۔ اسی طرح ہر وہ چیز جو زمین سے نکلے مثلاً چنا ‘ مسور ‘ ماش وغیرہ اجناس میں بھی پانچ وسق کی مقدار سے کم کم میں زکوۃ نہیں ہے۔ اس قول کو امام ابو یوسف ‘ محمد اور اہل مدینہ رحمہم اللہ نے اختیار کیا ۔ مگر علماء کی دوسری جماعت نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے قلیل و کثیر میں صدقے کو لازم کیا ہے۔
لغات : الرشاء۔ ڈول و رسّی سے سیراب ہو۔ بعل۔
ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ زمینی پیداوار میں چنا ‘ مسور ‘ ماش وغیرہ ان میں سے کسی بھی چیز میں صدقہ لازم نہیں جب تک پانچ وسق نہ ہوجائیں پانچ وسق کی مقدار متعین ہے اس سے کم پیداوار میں عشر نہیں ہے۔