۳۰۲۷ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا قَبِیْصَۃُ بْنُ عُقْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ‘ عَنْ عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ سَعِیْدِ بْنِ أَبِیْ سَرْحٍ‘ عَنْ (أَبِیْ سَعِیْدٍ الْخُدْرِیِّ‘ قَالَ : کُنَّا نُعْطِیْ زَکَاۃَ الْفِطْرِ مِنْ رَمَضَانَ صَاعًا مِنْ طَعَامٍ أَوْ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ‘ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ‘ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ) .
٣٠٢٧: عیاض بن عبداللہ بن سعید نے ابو سعید خدری (رض) سے نقل کیا کہ ہم صدقۃ الفطر رمضان میں طعام سے ایک صاع اور کھجور ‘ جو اور پنیر میں سے ایک ایک صاع دیا کرتے تھے۔
تخریج : بخاری فی الزکوۃ باب ٧٥‘ مسلم فی الزکوۃ نمبر ١٧۔
صدقۃ الفطر کی مقدار تمام اشیاء میں گندم اور آٹے کے علاوہ مکمل ایک صاع ہے مثلاً کھجور ‘ کشمش ‘ جو ‘ جوار وغیرہ گندم و آٹا کے متعلق اختلاف ہے۔
نمبر 1: امام مالک و شافعی رحمہم اللہ کے نزدیک گندم و آٹا میں ایک صاع لازم ہے۔
نمبر 2: احناف اور جمہور فقہاء گندم اور اس کے آٹے سے نصف صاع ہے اور امام ابوحنیفہ کے ہاں تو کشمش میں بھی نصف صاع ہے امام احمد کا قول بھی یہی ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلائل :
گندم اور آٹا میں بھی دیگر اشیاء کی طرح ایک صاع لازم ہے ان میں تفاوت نہ ہوگا۔
دلیل یہ روایات ہیں :