hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 303

.

الطحاوي

303
Al Tahawi
۳۰۳ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ قَالَ : ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سِنَانَ قَالَ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ عَلْقَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ سَلَمَۃَ ، عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ : ( بَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِلٰی رَجُلٍ مِنَ الْأَنْصَارِ فَأَبْطَأَ، فَقَالَ : مَا حَبَسَک ؟ قَالَ : کُنْتُ أَصَبْتُ مِنْ أَہْلِیْ ، فَلَمَّا جَائَ رَسُوْلُک ، اغْتَسَلْتُ ، وَلَمْ أُحْدِثْ شَیْئًا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ، وَالْغُسْلُ عَلَیْ مَنْ أَنْزَلَ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ مَنْ وَطِیَٔ فِی الْفَرْجِ ، فَلَمْ یُنْزِلْ ، فَلَیْسَ عَلَیْہِ غُسْلٌ ، وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ ، فَقَالُوْا : عَلَیْہِ الْغُسْلُ ، وَإِنْ لَمْ یُنْزِلْ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِمَا۔
٣٠٣: حضرت ابو سلمہ نے حضرت ابوہریرہ (رض) سے روایت نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک انصاری کی طرف پیغام بھیجا اس نے دیر کی آپ نے فرمایا تم نے کیوں دیر کی ؟ اس سے کہا جب آپ کا قاصد پہنچا میں اپنے گھر والوں سے مصروف تھا میں نے صرف غسل کیا اور کوئی کام نہیں کیا (اور حاضر خدمت ہوگیا) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا الماء من الماء یعنی منی کے خروج سے غسل واجب ہے اور غسل اس پر لازم ہے جسے انزال ہو۔
تخریج : مسلم فی الحیض باب ٨١‘ نسائی فی الطھارۃ باب ١٣١‘ ابو داؤد فی الطھارۃ باب ٨٣‘
حاصل روایات :
ان تمام روایات کو سامنے رکھ کر یہ بات ثابت ہو رہی ہے کہ اگر جماع کرنے والے کو انزال نہ ہو تو اس پر غسل واجب نہیں ہوتا علماء کے فریق اول نے انہی روایات سے احتجاج کیا ہے ان میں دو طرح کی روایات ہیں ایک جن میں الماء من الماء کا مجمل جملہ ہے اس کا مطلب ابن عباس (رض) نے فرمایا یہ احتلام سے متعلق ہے اور جن میں عدم غسل کی تصریح ہے تو اس کے بالمقابل زیادہ صحیح وہ روایات ہیں جن میں غسل کا تذکرہ ہے۔