۳۰۳۵ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا الْوَہْبِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ إِسْحَاقَ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عُثْمَانَ‘ عَنْ (عِیَاضِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ‘ قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا سَعِیْدٍ‘ وَہُوَ یُسْأَلُ عَنْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ‘ قَالَ : لَا أُخْرِجُ إِلَّا مَا کُنْتُ أُخْرِجُ عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ‘ أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِیْرٍ‘ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِیْبٍ‘ أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ .فَقَالَ لَہٗ رَجُلٌ : أَوْ مُدَّیْنِ‘ مِنْ قَمْحٍ ؟ فَقَالَ : لَا‘ تِلْکَ قِیْمَۃُ مُعَاوِیَۃَ‘ لَا أَقْبَلُہَا‘ وَلَا أَعْمَلُ بِہَا) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی ھٰذِہِ الْآثَارِ‘ فَقَالُوْا فِیْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ : مَنْ أَحَبَّ أَنْ یُعْطِیَہَا مِنَ الْحِنْطَۃِ‘ أَعْطَاہَا صَاعًا‘ وَکَذٰلِکَ إِنْ أَحَبَّ أَنْ یُعْطِیَہَا مِنَ الشَّعِیْرِ‘ أَوِ التَّمْرِ‘ أَوِ الزَّبِیْبِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : یُعْطِیْ صَدَقَۃَ الْفِطْرِ مِنَ الْحِنْطَۃِ‘ نِصْفَ صَاعٍ‘ وَمِمَّا سِوَی الْحِنْطَۃِ مِنَ الْأَصْنَافِ الَّتِیْ ذَکَرْنَا‘ صَاعًا .وَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ لَہُمْ عَلٰی أَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی‘ أَنَّ حَدِیْثَ أَبِیْ سَعِیْدٍ الَّذِی احْتَجُّوْا بِہٖ عَلَیْہِمْ‘ إِنَّمَا فِیْہِ إخْبَارٌ عَمَّا کَانُوْا یُعْطُوْنِ .وَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ کَانُوْا یُعْطُوْنَ مِنْ ذٰلِکَ مَا عَلَیْہِمْ‘ وَیَزِیْدُوْنَ فَضْلًا‘ لَیْسَ عَلَیْہِمْ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ غَیْرِ أَبِیْ سَعِیْدٍ فِی الْحِنْطَۃِ‘ خِلَافُ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِیْ سَعِیْدٍ .فَمِنْ ذٰلِکَ مَا حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ .ح .
٣٠٣٥: عیاض بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابو سعیدالخدری (رض) سے سنا جبکہ ان سے صدقۃ الفطر کا سوال ہوا کہ میں تو آج بھی وہی نکالتا ہوں جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں نکالا کرتا تھا وہ کھجور ‘ جو ‘ کشمش ‘ پنیر ہر ایک میں سے ایک ایک صاع ہے ایک آدمی نے کہا یا گندم کے دو مد ؟ تو آپ نے فرمایا نہیں یہ معاویہ نے قیمت لگائی ہے میں اس کو قبول نہیں کرتا اور نہ ہی میں اس پر عمل کروں گا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں علمائ کی ایک جماعت نے ان آثار کو اختیار کرتے ہوئے کہا جو شخص صدقۃ الفطر گندم سے ادا کرنا چاہے تو وہ گندم کا ایک صاع اور جو یا کھجور اور کشمش دینا چاہیے تو وہ بھی اسی قدر ہوں گے ۔ مگر دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ گندم سے نصف صاع صدقۃ الفطر دے اور جو وغیرہ سے پورا صاع ادا کرے۔ قول اول کے قائلین کے خلاف ان کی دلیل یہ ہے کہ حضرت ابو سعید (رض) کی جس روایت سے استدلال کیا اس میں تو اس بات کی اطلاع ہے جو وہ دیا کرتے تھے اور اس میں یہ کہنا ممکن ہے کہ وہ اس میں سے وہ بھی دیتے تھے جو ان پر لازم تھا اور کچھ زائد اپنے طور پر دیتے ہوں اور حضرت ابو سعید (رض) کے علاوہ دیگر صحابہ کرام سے گندم کے متعلق اس کے خلاف روایت وارد ہے۔ ذیل میں ملاحظہ ہو۔
حاصل روایات : یہ ہے کہ گندم ‘ پنیر ‘ کشمش ‘ جو ان میں سے ہر چیز کا ایک صاع صدقۃ الفطر میں دیا جائے گا کسی چیز میں باہمی تفاوت نہیں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف اور دلائل :
گندم سے نصف صاع اور بقیہ تمام چیزوں سے ایک صاع دیا جائے گا۔
روایت ابو سعید (رض) سے استدلال کا جواب : حضرت ابو سعیدالخدری (رض) والی روایت میں جو مقدار مذکور ہے وہ صحابہ کرام کے عمل کو ظاہر کرتی ہے صحابہ کرام اس لازم مقدار کے علاوہ بھی دیتے ہوں گے جو ان پر لازم تو نہ تھا مگر تبرعاً دیتے تھے اور ابو سعید (رض) سے گندم سے متعلق اس کے خلاف روایت وارد ہے وہ وہی روایت ہے جس کو ربیع موذن نے اسد سے اپنی سند کے ساتھ نقل کیا ہے نمبر ٣٠٣٩۔