hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3056

.

الطحاوي

3056
Al Tahawi
۳۰۵۶ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سُلَیْمَانُ بْنُ حَرْبٍ‘ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَیْدٍ‘ عَنْ عَبْدِ الْخَالِقِ الشَّیْبَانِیِّ‘ عَنْ (سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیِّبِ‘ قَالَ : کَانَتِ الصَّدَقَۃُ تُعْطٰی عَلٰی عَہْدِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا‘ نِصْفَ صَاعٍ مِنْ حِنْطَۃٍ .) فَقَدْ جَائَ تْ ھٰذِہِ الْآثَارُ الَّتِیْ ذَکَرْنَا عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی الْحِنْطَۃِ‘ بِمِثْلِ مَا عَدَلَہُ النَّاسُ بَعْدَہٗ‘ وَأَبُوْ سَعِیْدٍ‘ فَقَدْ رُوِیَ عَنْہُ مِنْ رَأْیِہٖ مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ‘ وَلَمْ یُخَالِفْ مَا رُوِیَ عَنْہُ مَا ذَکَرَہٗ عَنْہُ عِیَاضُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ فِیْ قَوْلِہٖ (تِلْکَ قِیْمَۃُ مُعَاوِیَۃَ‘ لَا أَقْبَلُہَا وَلَا أَعْمَلُ بِہَا) لِأَنَّہٗ فِیْ ذٰلِکَ‘ لَمْ یُنْکِرِ الْقِیْمَۃَ‘ وَإِنَّمَا أَنْکَرَ الْمُقَوِّمَ .فَھٰذَا مَا رُوِیَ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ صَدَقَۃِ الْفِطْرِ‘ وَقَدْ ذَکَرْنَا بَعْضَ مَا رُوِیَ عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ فِیْ ذٰلِکَ .وَقَدْ رُوِیَ فِیْ ذٰلِکَ أَیْضًا عَنْ أَبِیْ بَکْرٍ وَعُمَرَ وَعُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمْ مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ .
٣٠٥٦: عبدالخالق شیبانی نے سعید بن المسیب سے نقل کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر ‘ عمر ] کے زمانے میں نصف صاع گندم سے دیا جاتا تھا۔ گندم کے متعلق یہ روایات جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے وارد ہوتی ہیں یہ اسی طرح ہیں جیسا کہ آپ کے بعد صحابہ کرام (رض) نے برابری قائم کی اور حضرت ابو سعید (رض) کی رائے بھی اس کے موافق موجود ہے۔ اور وہ قول اس کے مخالف نہیں جو حضرت عیاض بن عبداللہ نے ان سے نقل کیا ہے کہ ” تلک قیمۃ معاویہ لا اقبلھا ولا اعمل بھا “ کہ یہ معاویہ نے قیمت مقرر کی ہے میں اس کو نہ قبول کرتا ہوں اور نہ اس پر عمل کرتا ہوں کیونکہ انھوں نے اس قیمت کا انکار نہیں کیا بلکہ قیمت لگانے والے کا انکار کیا۔ صدقۃ الفطر کے متعلق تو یہ بات آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہے۔ حضرت ابوبکر ‘ عمرو عثمان (رض) سے جو اس سلسلہ میں وارد ہوا ہے وہ بھی ہم نے ذکر کیا ہے اور ان کی مزید روایات بھی اس کی موافقت کرنے والی ہیں جو ذیل میں درج ہیں۔
حاصل روایات و آثار : گندم کے متعلق مندرجہ بالا روایات جن کا ہم نے تذکرہ کیا ہے یہ اسی طرح ہیں جس طرح کہ فریق اوّل کی تعدیل والی روایات ہیں بلکہ حضرت ابو سعید (رض) کی روایت ان کے موافق موجود ہے اب رہی وہ روایت جس کو عیاض بن عبداللہ نے اس طرح بیان کیا تلک قیمۃ معاویہ لا اقبلھاولا اعمل بھا تو ان روایات کو سامنے رکھ کر اس کی تاویل یہ ہوسکتی ہے کہ انھوں نے قیمت کا انکار نہیں کیا بلکہ قیمت لگانے والے کا انکار کیا۔
گندم کے سلسلہ میں آثار سے ہم ثابت کرچکے ہیں کہ یہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مقرر فرمائی ہے اس کو خود کسی نے مقرر نہیں کیا یہ توقیفی چیز ہے۔