۳۰۷ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ قَالَ : ثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَۃَ ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدٍ ، عَنْ سَعِیْدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ قَالَ : ( ذَکَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ أَیُوْجِبُ الْغُسْلَ ؟ فَقَالَ أَبُوْ مُوْسَی : أَنَا آتِیکُمْ بِعِلْمِ ذٰلِکَ ، فَنَہَضَ ، وَتَبِعْتہ ، حَتّٰی أَتٰی عَائِشَۃَ ، فَقَالَ : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنِّیْ أُرِیْدُ أَنْ أَسْأَلَک عَنْ شَیْئٍ ، وَأَنَا أَسْتَحْیِیْ أَنْ أَسْأَلَکِ ، فَقَالَتْ : سَلْ ، فَإِنَّمَا أَنَا أُمُّکَ .قَالَ : اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ ، أَیَجِبُ الْغُسْلُ ؟ .فَقَالَتْ : کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اِذَا الْتَقَی الْخِتَانَانِ ، اغْتَسَلَ).
٣٠٧: سعید بن المسیب کہتے ہیں کہ اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اذا التقی الختانان کا ذکر کیا کہ آیا اس سے غسل لازم ہوتا ہے یا نہیں ؟ حضرت ابو موسیٰ اشعری (رض) کہنے لگے میں اس کے متعلق صحیح بات پیش کروں گا وہ اٹھ کر چلے میں ان کے پیچھے گیا وہ چلتے چلتے حضرت عائشہ (رض) کی خدمت میں پہنچے اور کہنے لگے اے ام المؤمنین ! میں ایک مسئلہ آپ سے پوچھنا چاہتا ہوں اور مجھے سوال کرتے ہوئے حیاء آتی ہے انھوں نے فرمایا پوچھو۔ میں تمہاری ماں ہوں تو ابو موسیٰ کہنے لگے اذا التقی الختانان سے کیا غسل واجب ہوتا ہے ؟ تو فرمانے لگیں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب جماع کرتے تو غسل فرماتے۔
تخریج : بخاری فی الغسل والطھارۃ مسلم فی الحیض روایت ٨٨‘ یتصرف یسیر من اللفظ ‘