۳۰۷۱ : حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ الْمُقْرِئُ‘ قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ بْنُ سَعْدٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی ابْنُ شِہَابٍ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہِ نَحْوَہٗ۔قَالُوْا : فَلَمَّا ثَبَتَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ الَّذِی رُوِیَ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یَغْتَسِلُ‘ ہُوَ وَہِیَ مِنَ الْفَرَقِ‘ وَالْفَرَقُ ثَلاَثَۃُ آصُعٍ‘ کَانَ مَا یَغْتَسِلُ بِہٖ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا صَاعًا وَنِصْفًا .فَإِذَا کَانَ ذٰلِکَ ثَمَانِیَۃَ أَرْطَالٍ‘ کَانَ الصَّاعُ ثُلُثَیْہَا‘ وَہُوَ خَمْسَۃُ أَرْطَالٍ‘ وَثُلُثُ رَطْلٍ‘ وَھٰذَا قَوْلُ أَہْلِ الْمَدِیْنَۃِ أَیْضًا .فَکَانَ مِنَ الْحُجَّۃِ عَلَیْہِمْ لِأَہْلِ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی أَنَّ حَدِیْثَ عُرْوَۃَ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا إِنَّمَا فِیْہِ ذِکْرُ الْفَرَقِ الَّذِیْ کَانَ یَغْتَسِلُ مِنْہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ وَہِیَ لَمْ تَذْکُرْ مِقْدَارَ الْمَائِ الَّذِیْ کَانَ یَکُوْنُ فِیْہٖ‘ ہَلْ ہُوَ مِلْؤُہُ‘ أَوْ أَقَلُّ مِنْ ذٰلِکَ ؟ فَقَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ یَغْتَسِلُ ہُوَ وَہِیَ بِمِلْئِہٖ، وَیَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ کَانَ یَغْتَسِلُ ہُوَ وَہِیَ بِأَقَلَّ مِنْ مِلْئِہِ‘ مِمَّا ہُوَ صَاعَانِ‘ فَیَکُوْنُ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمْ مُغْتَسِلًا بِصَاعٍ مِنْ مَائٍ ‘ وَیَکُوْنُ مَعْنَی ھٰذَا الْحَدِیْثِ مُوَافِقًا لِمَعَانِی الْأَحَادِیْثِ الَّتِیْ رُوِیَتْ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ أَنَّہٗ کَانَ یَغْتَسِلُ بِصَاعٍ .فَإِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٠٧١: لیث بن سعد نے کہا کہ مجھے ابن شہاب نے اپنی سند سے اسی طرح روایت نقل کی ہے۔ ان حضرت کا کہنا یہ ہے کہ جب حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے یہ بات ثابت ہوئی کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور وہ ایک فرق پانی سے غسل کرتے تھے اور فرق کی مقدار تین صاع ہے۔ تو غسل کے لیے ہر ایک کا پانی 2 1 صاع ہوا ۔ جب یہ آٹھ رطل ہوا ۔ تو ایک صاع اس کے دو ثلث کے برابر ہوا اور وہ مقدار (٥) پانچ رطل اور رطل ہے۔ یہ قول کو اہل مدینہ کا بھی ہے۔ اول قول والے ان کے خلاف دلیل دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ حضرت عروہ نے جو حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے نقل کی ہے۔ اس میں اس فرق (مقدار) کا ذکر ہے جس سے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور خود عائشہ صدیقہ (رض) غسل کرتے تھے مگر اس میں پانی کی مقدار کا تذکرہ نہیں ‘ آیا وہ بھرا ہوا ہوتا تھا یا اس سے کم ؟ ممکن ہے کہ وہ بھرے ہوئے سے غسل فرماتے ہوں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ ان کے غسل کے وقت وہ بھرا ہوا نہ ہو یعنی وہ دو صاع ہو اور ہر ایک کا غسل ایک صاع پانی سے ہو۔ اس صورت میں اس روایت کا مفہوم ان روایات کے موافق ہوجائے گا جو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں کہ آپ ایک صاع سے غسل کرتے تھے۔ اس سلسلہ میں ذیل کی روایات پر نظر ڈالیں۔
حاصل روایات : ان تمام روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عائشہ (رض) ایک فرق سے غسل فرماتے تھے فرق تین صاع کا ہوتا ہے تو ہر ایک کے لیے غسل پر صرف ہونے والا پانی ڈیڑھ صاع بنا جب اس کو آٹھ رطل کا تسلیم کریں تو صاع اس کے دو ثلث ہوا حالانکہ وہ تو پانچ رطل اور ثلث رطل ہے اور یہ اہل مدینہ کا قول ہے پس آٹھ رطل ڈیڑھ صاع ہوا جبکہ صاع ٥ رطل اور ثلث رطل ہے۔
فریق اوّل کا جواب : یہ روایت عائشہ (رض) میں فرق کا تذکرہ ہے جس سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) غسل فرمایا کرتے تھے مگر روایت میں پانی کی مقدار کا تذکرہ نہیں کہ وہ بھرا ہوتا تھا یا اس میں کچھ پانی ہوتا تھا ہر دو احتمال ہیں۔۔ فرق نامی برتن پورا بھرا ہوا ہو۔
نمبر 2: کم بھرا ہو اور اس سے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور عائشہ (رض) غسل کرتے ہوں اور وہ کم بھرے کی مقدار دو صاع ہو تو ہر ایک ایک صاع پانی سے غسل کرنے والے تھے اس صورت میں یہ روایت ان روایات کے موافق ہوجائے گی جن میں ایک صاع کا ذکر آیا ہے جیسا کہ یہ روایت ہے۔