۳۰۸۳ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا سَعِیْدُ بْنُ مَنْصُوْرٍ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عِیْسٰی‘ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ " یَعْنِی بْنَ جُبَیْرٍ " عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ یَتَوَضَّأُ بِرَطْلَیْنِ‘ وَیَغْتَسِلُ بِالصَّاعِ) .فَھٰذَا أَنَسٌ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ مُدَّ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَطْلَانِ‘ وَالصَّاعُ أَرْبَعَۃُ أَمْدَادٍ .فَإِذَا ثَبَتَ أَنَّ الْمُدَّ رَطْلَانِ‘ ثَبَتَ أَنَّ الصَّاعَ ثَمَانِیَۃُ أَرْطَالٍ .فَإِنْ قَالَ قَائِلٌ : فَإِنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِکٍ‘ قَدْ رُوِیَ عَنْہُ خِلَافُ ھٰذَا‘ فَذَکَرَ ۔
٣٠٨٣: عبداللہ بن جبیر (رض) نے انس (رض) سے نقل کی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) دو رطل سے وضو اور ایک صاع سے غسل فرماتے تھے۔ یہ حضرت انس (رض) ہیں جو یہ بتلاتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مردورطل اور صاع چار مد کا تھا ۔ پس یہ بات ثابت ہوگئی کہ ایک مد ۔ دو رطل ہے تو یہ خود ثابت ہوگیا کہ ایک صاع آٹھ رطل ہوتا ہے۔ اگر کوئی معترض یہ کہے کہ حضرت انس (رض) سے اس کے خلاف بھی مروی ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الطہارۃ باب ٤٤‘ نمبر ٩٥۔
انس (رض) کی ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا مد دو رطل کا تھا اور صاع چار مد کا تھا پس جب یہ ثابت ہوگیا کہ مد دو رطل کا ہے تو صاع کا آٹھ رطل ہونا ثابت ہوگیا۔