۳۰۸۸ : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِیْ دَاوٗدَ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ بْنُ بِشْرٍ الْکُوْفِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ‘ عَنْ مُغِیْرَۃَ‘ وَعُبَیْدَۃَ‘ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ‘ قَالَ : وَضَعَ الْحَجَّاجُ قَفِیْزَہٗ عَلٰی صَاعِ عُمَرَ .فَھٰذَا أَوْلٰی مِمَّا ذَکَرَ مَالِکٌ‘ مِنْ تَحَرِّیْ عَبْدِ الْمَلِکِ‘ لِأَنَّ التَّحَرِّیَ لَیْسَ مَعَہٗ حَقِیْقَۃٌ‘ وَمَا ذَکَرَہٗ اِبْرَاہِیْمُ وَمُوْسٰی بْنُ طَلْحَۃَ مِنَ الْعِیَارِ مَعَہٗ حَقِیْقَۃٌ .فَھٰذَا أَوْلَی وَبِاٰللّٰہِ التَّوْفِیْقُ .
٣٠٨٨: مغیرہ اور عبیدہ نے ابراہیم سے بیان کیا کہ حجاج نے اپنا قفیز صاع عمر (رض) کے مطابق بنایا۔ یہ اس سے بہتر ہے جس کا تذکرہ امام مالک (رح) نے کیا کہ عبد الملک نے تحری کی ۔ کیونکہ سوچ و بچار میں حقیقت نہیں اور جو بات حضرت ابراہیم (رح) اور موسیٰ بن طلحہ (رح) نے ذکر کی ہے۔ اس کے ساتھ حقیقت ہے۔ جو کہ اولیٰ ہے وباللہ التوفیق۔
حاصل یہ ہے کہ تحری عبدالملک والی روایت سے یہ بات جس کو ابراہیم اور موسیٰ بن طلحہ نے اندازہ سے تعبیر کیا ہے یہ اولیٰ و اعلیٰ ہے پس اصل کے لحاظ سے صاع کا وزن ٥ رطل اور ثلث رطل ہوا اور یہی مقدار عراقی و بغدادی صاع کے لحاظ سے آٹھ رطل ہے۔ پس اختلاف صرف نزاع لفظی ہوا نہ کہ حقیقی۔
نوٹ : اس باب میں امام ابوحنیفہ (رح) کے اسم گرامی کو دو مرتبہ لائے گزشتہ اوراق میں ایسا نہیں ہوا دلائل کے انداز سے معلوم ہوتا ہے کہ امام صاحب کے قول کو راجح قرار دینا چاہتے ہیں اسی لیے ضمنی طور پر بھی اس کے لیے روایات کثرت سے ذکر کردیں۔