۳۱۰ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ غَسَّانَ قَالَ : ثَنَا شَرِیْکٌ ، عَنْ دَاوٗدَ ، عَنْ عِکْرِمَۃَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَوْلُہُ ( الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ) إِنَّمَا ذٰلِکَ فِی الْاِحْتِلَامِ ، اِذَا رَأٰی أَنَّہُ یُجَامِعُ ثُمَّ لَمْ یُنْزِلْ ، فَلَا غُسْلَ عَلَیْہِ .فَھٰذَا ابْنُ عَبَّاسٍ قَدْ أَخْبَرَ أَنَّ وَجْہَہٗ ، غَیْرُ الْوَجْہِ الَّذِیْ حَمَلَہُ عَلَیْہِ أَہْلُ الْمَقَالَۃِ الْأُوْلٰی ، فَضَادَّ قَوْلُہُ قَوْلَہُمْ .وَأَمَّا مَا رُوِیَ فِیْمَا بَیَّنَ فِیْہِ الْأَمْرَ ، وَأَخْبَرَ فِیْہِ بِالْقَصْدِ أَنَّہٗ لَا غُسْلَ عَلَیْہِ فِیْ ذٰلِکَ ، حَتّٰی یَکُوْنَ الْمَائُ ، فَإِنَّہٗ قَدْ رُوِیَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خِلَافُ ذٰلِکَ .
٣١٠: عکرمہ کہتے ہیں جناب ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ انما الماء من الماء یہ احتلام سے متعلق ہے اگر کسی نے اپنے کو خواب میں جماع کرتے دیکھا اگر اس کو انزال نہ ہو تو اس پر غسل نہیں ہے۔
تخریج : ترمذی فی الطھارۃ باب ٨١‘ مصنف ابن ابی شیبہ کتاب الطھارۃ ١؍٨٩۔
اب ابن عباس (رض) نے جب روایت کا محمل بتلا دیا تو فریق اول کے پاس اس سے دلیل کا موقعہ نہ رہا۔
اب دوسری قسم کی روایات کہ اکسال میں غسل نہیں ان کے متعلق گزارش یہ ہے کہ ان سے قوی تر روایات جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مروی ہیں جو ان کے متضاد ہیں۔