hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3103

.

الطحاوي

3103
Al Tahawi
۳۱۰۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحٌ‘ قَالَ : ثَنَا صَالِحُ بْنُ أَبِی الْأَخْضَرِ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ شِہَابٍ‘ عَنِ السَّائِبِ بْنِ یَزِیْدَ‘ عَنِ الْمُطَّلِبِ بْنِ أَبِیْ وَدَاعَۃَ‘ عَنْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا بِذٰلِکَ‘ وَلَمْ یَرْفَعْہُ .ثُمَّ قَدْ رَوَاہُ نَافِعٌ أَیْضًا‘ عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا بِذٰلِکَ‘ وَلَمْ یَذْکُرْ حَفْصَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَیْضًا‘ وَلَمْ یَرْفَعْہُ .
٣١٠٣: موسیٰ بن عقبہ نے نافع سے انھوں نے ابن (رض) سے اس طرح موقوف نقل کی ہے۔ پھر اس روایت کو ابن عمر (رض) سے نافع نے نقل کیا اور انھوں نے بھی نہ تو حضرت حفصہ کا واسطہ ذکر کیا اور نہ اس کو مرفوع نقل کیا۔
حاصل روایات : ان اسناد بالا نے یہ حقیقت کھول دی کہ یہ روایت موقوف ہے مرفوع نہیں اس کو خواہ امّ المؤمنین حفصہ (رض) پر موقوف مانا جائے یا ابن عمر (رض) پر موقوف تسلیم کیا جائے مرفوع روایات کے بالمقابل اسے تسلیم نہیں کیا جاسکتا۔
جواب نمبر 2: اس روایت سے مراد قضاء رمضان ‘ نذر غیر معین اور صوم کفارہ ہیں اب یہ موقوف بھی اپنے مقام پر معمول بھی رہے گی۔
دلائل آگے ملاحظہ ہوں