۳۱۲۲ : بِمَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَالِکٌ‘ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ حُمَیْدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ (أَنَّ رَجُلًا أَفْطَرَ فِیْ رَمَضَانَ‘ فِیْ زَمَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَمَرَہٗ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُکَفِّرَ بِعِتْقِ رَقَبَۃٍ‘ أَوْ صِیَامِ شَہْرَیْنِ مُتَتَابِعَیْنِ‘ أَوْ إِطْعَامِ سِتِّیْنَ مِسْکِیْنًا‘ فَقَالَ : لَا أَجِدُ فَأُتِیَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِعَرْقٍ فِیْہِ تَمْرٌ‘ فَقَالَ : خُذْ ھٰذَا فَتَصَدَّقْ بِہٖ۔ فَقَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ إِنِّیْ لَا أَجِدُ أَحَدًا أَحْوَجَ إِلَیْہِ مِنِّیْ‘ فَضَحِکَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی بَدَتْ أَنْیَابُہٗ، ثُمَّ قَالَ : کُلْہٗ) .
٣١٢٢: حمید بن عبدالرحمن نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے رمضان کا روزہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانے میں توڑ دیا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو ایک گردن آزاد کرنے یا مسلسل دو ماہ روزہ رکھنے یا ساٹھ مساکین کو کھانا کھلانے کا حکم فرمایا اس نے کہا میرے پاس ان کی طاقت نہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس ایک کھجوروں کا ٹوکرا لایا گیا تو آپ نے اسے فرمایا یہ لو اور اس کو صدقہ کر دو اس نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اپنے سے زیادہ کسی کو محتاج نہیں پاتا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اس قدر ہنسے کہ آپ کی داڑھیں ظاہر ہوگئیں پھر فرمایا تم اسے کھالو۔