۳۱۳۲ : حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو بْنِ الْحَسَنِ‘ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ الْأَنْصَارِیِّ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُمَا قَالَ : (کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ‘ فَرَأٰی زِحَامًا‘ وَرَجُلًا قَدْ ظُلِّلَ عَلَیْہِ‘ فَسَأَلَ مَا ھٰذَا ؟ .فَقَالُوْا : صَائِمٌ‘ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ أَنْ تَصُوْمُوْا فِی السَّفَرِ) .
٣١٣٢: محمد بن عمرو بن الحسن نے جابر (رض) سے نقل کیا ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سفر میں تھے آپ نے لوگوں کا اکٹھ دیکھا کہ ایک آدمی ہے اور اس پر لوگ سایہ کرنے والے ہیں آپ نے پوچھا یہ کیا ہے ؟ انھوں نے بتلایا کہ یہ روزہ دار ہے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سفر میں تمہارا روزہ رکھنا نیکی نہیں۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٣٦‘ مسلم فی الصیام ٩٢‘ ابو داؤد فی الصوم باب ١٨‘ نسائی فی الصیام باب ٤٦‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ١١‘ دارمی فی الصوم باب ١٥‘ مسند احمد ٣؍٥٦٢٩٩؍٤٣٤۔
سفر میں روزہ سے متعلق علماء کی معروف رائے یہ ہیں :
نمبر 1: حضرت حسن بصری (رح) اور اہل ظواہر سفر میں روزے کو ناجائز قرار دیتے ہیں رکھ لیا تو اس کا اعادہ واجب ہے۔
نمبر 2: امام احمد و شعبی و مجاہد رحمہم اللہ کے ہاں روزہ ناجائز تو نہیں مگر افضل روزہ نہ رکھنا ہے اگر رکھ لیا تو اعادہ کی ضرورت نہیں۔
نمبر 3: عبداللہ بن مبارک اور سفیان ‘ لیث رحمہم اللہ روزہ رکھنا اور نہ رکھنا دونوں کی حیثیت برابر ہے۔
نمبر 4: امام ابوحنیفہ و شافعی ومالک رحمہم اللہ کے ہاں روزے میں مشقت نہ ہو تو روزہ رکھنا افضل ہے۔
فریق اوّل کا مؤقف اور دلیل : سفر میں روزہ جائز نہیں رکھ لیا تو اعادہ لازم ہے حتی قال بعضہم سے یہی لوگ مراد ہیں۔ دلیل یہ ہے۔