۳۱۳۸ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ النُّعْمَانِ السَّقَطِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْحُمَیْدِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا سُفْیَانُ‘ قَالَ : سَمِعْتُ الزُّہْرِیَّ یَقُوْلُ (أَخْبَرَنِیْ صَفْوَانُ بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ) .قَالَ سُفْیَانُ : فَذُکِرَ لِیْ أَنَّ الزُّہْرِیَّ کَانَ یَقُوْلُ‘ وَلَمْ أَسْمَعْ أَنَا مِنْہُ (لَیْسَ مِنْ البر الصیام فِی السفر) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلَی الْاِفْطَارِ فِیْ شَہْرِ رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ‘ زَعَمُوْا أَنَّہٗ أَفْضَلُ مِنَ الصِّیَامِ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذِہِ الْآثَارِ‘ حَتّٰی قَالَ بَعْضُہُمْ : إِنَّ مَنْ صَامَ فِی السَّفَرِ لَمْ یُجْزِہٖ الصَّوْمَ‘ وَعَلَیْہِ قَضَاؤُہٗ فِیْ أَہْلِہٖ، وَرَوَوْہُ عَنْ عُمَرَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ .
٣١٣٨: سفیان کہتے ہیں کہ میں نے زہری کو کہتے سنا کہ وہ فرماتے تھے مجھے صفوان بن عبداللہ نے بیان کیا پھر انھوں نے اپنی اسناد سے روایت نقل کی ہے۔ بعض علماء اس بات کو اختیار کرنے والے ہیں کہ رمضان المبارک میں جو شخص سفر کرے اسے افطار کرنا روزے کی بنسبت افضل ہے ‘ انھوں نے ان آثار بالا کو اپنی دلیل میں پیش کیا ۔ جب کہ دوسروں نے کہا جس نے سفر رمضان میں اختیار کیا اور روزہ رکھا اس کا روزہ درست نہ ہوگا۔ اور وہ گھر جا کر اس کی قضاء کرے اسے حضرت عمر (رض) کا اثر قرار دیا ہے ۔
تخریج : مسند احمد ٥؍٤٣٤۔
سفیان کہتے ہیں کہ مجھے بتلایا گیا کہ زہری کہا کرتے تھے میں نے خود نہیں سنا لیس من ید ۔۔۔ یہ بلا الف لام لائے یا الف اور میم لے آئے ہیں یہ دونوں طرح درست ہے۔
حاصل روایات : ان روایات سے بظاہر معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ درست نہیں اور اگر کسی نے رکھ لیا تو اس پر قضا لازم ہوگی کیونکہ روزہ پایا ہی نہ گیا۔
حضرت عمر (رض) کے یہ ارشاد اس مفہوم کی تائید کرتے ہیں۔