hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3146

.

الطحاوي

3146
Al Tahawi
۳۱۴۵ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ وَہْبٍ‘ أَنَّ مَالِکًا حَدَّثَہٗ، عَنْ أَبِی الزِّنَادِ‘ عَنِ الْأَعْرَجِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ‘ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ‘ مِثْلَہٗ .فَلَمْ یَکُنْ مَعْنٰی قَوْلہ (لَیْسَ الْمِسْکِیْنُ بِالطَّوَافِ) عَلٰی مَعْنَی إخْرَاجِہِ إِیَّاہُ مِنْ أَسْبَابِ الْمَسْکَنَۃِ کُلِّہَا‘ وَلٰکِنَّہٗ أَرَادَ بِذٰلِکَ (لَیْسَ الْمِسْکِیْنَ الْمُتَکَامِلُ الْمَسْکَنَۃَ‘ وَلٰـکِنَّ الْمِسْکِیْنَ الْمُتَکَامِلَ الْمَسْکَنَۃِ‘ الَّذِیْ لَا یَسْأَلُ النَّاسَ‘ وَلَا یُعْرَفُ فَیُتَصَدَّقُ عَلَیْہِ) .فَکَذٰلِکَ قَوْلُہٗ (لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الصِّیَامُ فِی السَّفَرِ) لَیْسَ ذٰلِکَ عَلَی إخْرَاجِ الصَّوْمِ فِی السَّفَرِ مِنْ أَنْ یَّکُوْنَ بِرًّا‘ وَلٰکِنَّہٗ عَلٰی مَعْنَی (لَیْسَ مِنَ الْبِرِّ الَّذِیْ ھُوَ أَبَرُّ الْبِرِّ‘ الصَّوْمُ فِی السَّفَرِ) ، لِأَنَّہٗ قَدْ یَکُوْنُ الْاِفْطَارُ ہُنَاکَ أَبَرَّ مِنْہُ اِذَا کَانَ عَلَی التَّقَوِّی لِلِقَائِ الْعَدُوِّ‘ وَمَا أَشْبَہَ ذٰلِکَ .فَھٰذَا مَعْنًی صَحِیْحٌ‘ وَہُوَ أُوْلَیْ مَا حُمِلَ عَلَیْہِ مَعْنَی ھٰذِہِ الْآثَارِ حَتّٰی لَا تَتَضَادَّ ہِیَ وَغَیْرُہَا‘ مِمَّا قَدْ رُوِیَ فِیْ ھٰذَا الْبَابِ أَیْضًا .
٣١٤٥: اعرج نے ابوہریرہ (رض) سے انھوں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اسی طرح روایت کی ہے۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ارشاد لیس المسکین بالطواف کا معنیٰ یہ نہیں کہ اس میں مسکینی کا کوئی سبب نہیں پایا جاتا بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ کامل مسکنت والا مسکین نہیں کامل مسکنت والا مسکین وہ ہے جو نہ تو لوگوں سے سوال کرتا ہے اور نہ اس کو لوگ مسکین سمجھتے ہیں کہ اس کو صدقہ دیں پس اسی طرح روایت لیس من البر الصیام فی السفر ( الحدیث) اس میں روزے کو مطلقًا نیکی سے نہیں نکالا گیا بلکہ اس کو اعلیٰ درجے کی نیکی سے نکالا گیا ہے کیونکہ بسا اوقات افطار کرنا اس سے زیادہ نیکی ہے مثلاً جب کہ دشمن سے سامنے کا خطرہ ہو وغیرہ ۔ یہی مطلب درست ہے اور اس معنیٰ سے یہ زیادہ بہتر ہے جس پر قول اول والوں نے محمول کیا ہے اور اس کا مقصد یہ ہے تاکہ اس باب کی منقولہ روایات میں تضاد نہ رہے ۔ چنانچہ ان روایات کو ملاحظہ فرمائیں۔
یہی ہے کہ مسکنت کی نفی سے تمام اسباب مسکنت کی نفی مراد نہیں بلکہ اس سے کامل المسکنت شخص مراد ہے بالکل اسی طرح لیس من البر والی روایت میں روزے کو مطلق نیکی کے کام سے نکالنا مقصود نہیں بلکہ کامل بر کی نفی ہے کہ سفر میں روزہ کامل نیکی نہیں کیونکہ سفر کے بعض مواقع ایسے ہیں جہاں افطار اس سے زیادہ بڑی نیکی بن جاتی ہے مثلاً جب دشمن کا سامنا مقصود ہو۔
یہ معنی درست ہے اور اس معنی سے اولیٰ ہے جس پر فریق اوّل سے محمول کیا ہے اور اس کا مقصد روایات سے تضاد کا دور کرنا ہے۔