۳۱۵ : حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ قَالَ : ثَنَا عَمِّیْ ، قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ رَبِیْعَۃَ ، عَنْ حِبَّانَ بْنِ وَاسِعٍ ، عَنْ عُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : ( اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ ، فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ).قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَھٰذِہِ الْآثَارُ تُضَادُّ الْآثَارَ الْأُوَلَ ، وَلَیْسَ فِیْ شَیْئٍ مِنْ ذٰلِکَ دَلِیْلٌ عَلَی النَّاسِخِ مِنْ ذٰلِکَ مَا ہُوَ ؟ فَنَظَرْنَا فِیْ ذٰلِکَ .فَإِذَا عَلِیُّ بْنُ شَیْبَۃَ۔
٣١٥: جناب عروہ حضرت عائشہ (رض) سے نقل کرتے ہیں کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب ختان ختان کی طرف تجاوز کر جائے تو غسل لازم ہوگیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ یہ آثار پہلے آثار کے خلاف ہیں اور ان میں کوئی چیز ایسی نہیں جو ان کے ناسخ ہونے کی دلیل بن سکے پس جب ہم نے دیکھ بھال کی تو یہ روایات مل گئیں۔
ختان سے مرد و عورت کی شرمگاہ مراد ہے۔ تج اور سے دخول مراد ہے۔
تخریج : ترمذی فی الطھارۃ باب ٨٠‘ روایت ١٠٨‘
حاصل روایات :
التقائے ختانین سے غسل واجب ہوجاتا ہے۔
امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں یہ روایات خمسہ پہلی روایات کے متضاد ہیں مگر بنظر انصاف میں پہلی روایات کے منسوخ ہونے کی طرف اشارہ بھی نہیں ملتا۔
جواب دوم :
دلائل نسخ کو غور سے ملاحظہ فرمائیں۔