۳۱۷۰ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ مُعَاوِیَۃَ‘ عَنْ عَاصِمٍ‘ عَنْ مُوَرِّقٍ الْعِجْلِیِّ‘ عَنْ (أَنَسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ خَرَجْنَا مَعَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ سَفَرٍ‘ فَنَزَلْنَا فِیْ یَوْمٍ شَدِیْدِ الْحَرِّ‘ فَمِنَّ الصَّائِمُ‘ وَمِنَّا الْمُفْطِرُ‘ فَنَزَلْنَا فِیْ یَوْمٍ حَارٍّ وَأَکْثَرُنَا ظِلًّا صَاحِبُ الْکِسَائِ ‘ وَمِنَّا مَنْ یَسْتُرُ الشَّمْسَ بِیَدِہٖ، فَسَقَطَ الصُّوَّامُ‘ وَقَامَ الْمُفْطِرُوْنَ‘ فَضَرَبُوا الْأَبْنِیَۃَ‘ وَسَقُوا الرِّکَابَ .فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَہَبَ الْمُفْطِرُوْنَ بِالْأَجْرِ الْیَوْمَ) .
٣١٧٠: مورق عجلی نے انس (رض) سے نقل کیا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک سفر میں گئے ہم ایک پڑاؤ میں اترے سخت گرمی کا موسم تھا ہم سے بعض روزے سے تھے اور بعض افطار کرنے والے تھے وہ دن سخت گرمی کا تھا اور ہماری اکثریت کپڑوں والوں سے سایہ حاصل کرنے والی تھی اور بعض دھوپ کو اپنے ہاتھ سے روکنے والے تھے۔ (منزل پر پہنچ کر) تو روزہ دار گرپڑے اور بےروزہ اٹھے انھوں نے خیمے نصب کئے اور سواریوں کو پانی پلایا اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا آج تو افطار کرنے والے اجر میں بڑھ گئے۔
تخریج : مسلم فی الصیام ١٠٠۔