hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3181

.

الطحاوي

3181
Al Tahawi
۳۱۸۰ : حَدَّثَنَا یُوْنُسُ‘ قَالَ : أَنَا بِشْرُ بْنُ بَکْرٍ‘ عَنِ الْأَوْزَاعِیِّ قَالَ : حَدَّثَنِیْ یَحْیَی بْنُ أَبِیْ کَثِیْرٍ‘ قَالَ : حَدَّثَنِی الْقَاسِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ‘ عَنْ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّہَا کَانَتْ تَصُوْمُ فِی السَّفَرِ فِی الْحَرِّ .فَقُلْتُ : مَا حَمَلَہَا عَلٰی ذٰلِکَ ؟ فَقَالَ : إِنَّہَا کَانَتْ تُبَادِرُ .فَھٰذِہٖ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کَانَتْ تَرَی الْمُبَادَرَۃَ بِصَوْمِ رَمَضَانَ فِی السَّفَرِ‘ أَفْضَلَ مِنْ تَأْخِیْرِ ذٰلِکَ إِلَی الْحَضَرِ .وَکَانَ أَیْضًا‘ مِمَّا احْتَجَّ بِہٖ مَنْ کَرِہَ الصَّوْمَ فِی السَّفَرِ۔
٣١٨٠: قاسم بن محمد نے عائشہ (رض) سے نقل کیا وہ گرمی کے اسفار میں بھی روزہ رکھتی تھیں میں نے پوچھا ان کو اس بات پر کس چیز نے آمادہ کیا ؟ اس نے جواب دیا وہ اعمال میں جلدی کرنے والی تھیں۔ تو یہ حضرت عائشہ صدیقہ (رض) ہیں جو رمضان المبارک کے روزے کو سفر میں جلدی رکھنے کو گھر پہنچ کر اسے تاخیر سے رکھنے سے افضل جانتی تھیں۔ جو لوگ سفر میں روزے کو مکروہ قرار دیتے ہیں۔ انھوں نے اس روایت سے بھی استدلال کیا۔
عائشہ صدیقہ (رض) رمضان المبارک میں سفر میں روزہ رکھنے والی تھیں اس سے عمل میں سبقت اور مبادرت مقصود تھی اور یہ گھر میں واپس آ کر ادا کرنے سے افضل و اعلیٰ تھا تبھی تو وہ اس پر عمل پیرا تھیں۔
ضمنی اشکال :
مندرجہ ذیل روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ سفر میں روزہ افضل کیا ہوتا بلکہ ناپسند اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے طرز عمل کے خلاف ہے۔
روایت ملاحظہ ہو۔