hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3183

.

الطحاوي

3183
Al Tahawi
۳۱۸۲ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْجِیْزِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ زُرْعَۃَ‘ قَالَ : أَنَا حَیْوَۃُ‘ قَالَ : أَنَا أَبُوَ الْأَسْوَدِ‘ أَنَّہٗ سَمِعَ عُرْوَۃَ بْنَ الزُّبَیْرِ یُحَدِّثُ‘ عَنْ أَبِیْ مُرَاوِحٍ الْأَسْلَمِیِّ‘ عَنْ (حَمْزَۃَ بْنِ عَمْرٍو الْأَسْلَمِیِّ‘ صَاحِبِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّہٗ قَالَ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ إِنِّیْ أَسْرُدُ الصِّیَامَ‘ أَفَأَصُوْمُ فِی السَّفَرِ ؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : إِنَّمَا ہِیَ رُخْصَۃٌ مِنَ اللّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ لِلْعِبَادِ‘ مَنْ قَبِلَہَا فَحَسَنٌ جَمِیْلٌ‘ وَمَنْ تَرَکَہَا فَلاَ جُنَاحَ عَلَیْہِ) .قَالَ : وَکَانَ حَمْزَۃُ یَصُوْمُ الدَّہْرَ فِی السَّفَرِ وَالْحَضَرِ‘ وَکَانَ أَبُوْ مُرَاوِحٍ کَذٰلِکَ‘ وَکَانَ عُرْوَۃُ کَذٰلِکَ .فَدَلَّ مَا ذَکَرْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنَّ الصَّوْمَ فِی السَّفَرِ أَفْضَلُ مِنَ الْاِفْطَارِ‘ وَأَنَّ الْاِفْطَارَ إِنَّمَا ہُوَ رُخْصَۃٌ .
٣١٨٢: ابو مراوح اسلمی نقل کرتے ہیں کہ صحابی رسول حضرت حمزہ بن عمرو اسلمی (رض) نے خود سوال کیا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں ہمیشہ روزہ رکھتا ہوں اس لیے حالت سفر میں بھی روزہ رکھتا ہوں تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا سفر میں روزہ کے افطار کی بندوں کو رخصت ملی ہے جس نے اس کو قبول کرلیا تو بہت اچھا اور خوب ہے اور جس نے اس کو ترک کیا (روزہ رکھا) اس پر کوئی گناہ نہیں۔ پس جو کچھ ہم نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے ذکر کیا کہ روزہ سفر میں افطار سے افضل ہے اور بلاشبہ افطار کی رخصت ہے۔
عروہ (رح) کا بیان ہے کہ حمزہ ہمیشہ سفر و حضر میں روزہ رکھتے اور ابو مراوح بھی اسی طرح روزہ رکھتے بلکہ خود عروہ بھی اسی طرح کرتے۔
تخریج : مسلم فی الصیام نمبر ١٠٧۔
اس روایت سے ثابت ہوا کہ روزہ سفر میں افطار سے افضل ہے اور افطار تو رخصت ہے۔
روایت عائشہ (رض) ملاحظہ ہو۔