hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3217

.

الطحاوي

3217
Al Tahawi
۳۲۱۶ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا الْحِمَّانِیُّ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ أُسَامَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عُمَیْسٍ‘ عَنْ قَیْسِ بْنِ مُسْلِمٍ‘ عَنِ طَارِقِ بْنِ شِہَابٍ‘ عَنْ أَبِیْ مُوْسٰی، قَالَ : قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ (قَدْ کَانَ یَوْمُ عَاشُوْرَائَ یَوْمًا یَصُوْمُہُ الْیَہُوْدُ‘ وَیَتَّخِذُوْنَہُ عِیْدًا‘ فَصُوْمُوْہُ أَنْتُمْ) .فَفِیْ ھٰذَا الْحَدِیْثِ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَمَرَ بِصَوْمِہٖ، لِأَنَّ الْیَہُوْدَ کَانَتْ تَصُوْمُہُ .وَقَدْ أَخْبَرَ ابْنُ عَبَّاسٍ فِیْ حَدِیْثِہِ بِالْعِلَّۃِ الَّتِی مِنْ أَجْلِہَا کَانَتَ الْیَہُوْدُ تَصُوْمُہٗ، أَنَّہَا عَلَی الشُّکْرِ مِنْہُمْ لِلّٰہِ تَعَالٰی فِیْ إظْہَارِہٖ مُوْسٰی عَلٰی فِرْعَوْنَ‘ وَأَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَیْضًا صَامَہٗ، کَذٰلِکَ‘ وَالصَّوْمُ لِلشُّکْرِ اخْتِیَارٌ‘ لَا فَرْضٌ .
٣٢١٦: ابن شہاب نے ابو موسیٰ (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا عاشورہ کا دن وہ تھا جس میں یہود روزہ رکھتے تھے اور اس کو عید کے طور پر مناتے تھے پس تم بھی روزہ رکھو۔ یہ روایت بتلا رہی ہے کہ جناب رسول اللہ نے اس دن کے روزے کا حکم فرمایا اور یہود یہ روزہ اس شکریہ کے طور پر رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو فرعون پر غلبہ عنایت فرمایا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی اسی طور پر روزہ رکھا اور شکر کا روزہ اختیار ہوتا ہے نہ کہ فرض ۔ ذیل کی روایات۔ ملاحظہ کریں۔ اس روایت میں آپ نے ان کو روزے کا حکم فرمایا جس کا مقصد گناہوں کا کفارہ اور ثواب کا حصول تھا اور یہ ہماری پیش کردہ روایت ابن عباس (رض) کے خلاف نہیں کیونکہ یہ عین ممکن ہے کہ آپ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ اس بات پر شکر گزاری کرتے ہوئے روزہ رکھتے ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ سے ادا کرتے ہو کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اس کے ذریعہ شکریہ ادا کیا پس اللہ تعالیٰ اس کے ذریعہ گزشتہ سال کے گناہ مٹا دیتے ہوں
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٦٩‘ مسلم فی الصیام ١٢٩۔
روایات بالا اور خصوصاً یہ روایت ظاہر کر رہی ہے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے روزہ رکھنے کا اس لیے حکم فرمایا کیونکہ یہودی نجات بنی اسرائیل اور غرق فرعون کی خوشی میں یہ روزہ رکھتے تھے گویا یہ صوم تشکر تھا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بھی بطور تشکر رکھنے کا حکم فرمایا تشکر میں تو اختیار ہوتا ہے نہ کہ فرضیت۔