hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3229

.

الطحاوي

3229
Al Tahawi
۳۲۲۸ : حَدَّثَنَا فَہْدٌ‘ قَالَ : ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ یُوْنُسَ‘ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ شِہَابٍ‘ عَنِ ابْنِ أَبِیْ لَیْلٰی‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .فَثَبَتَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ مَا ذَکَرْنَاہُ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ إِنَّمَا أَرَادَ بِصَوْمِ التَّاسِعِ‘ أَنْ یُدْخِلَ صَوْمَہٗ یَوْمَ عَاشُوْرَائَ ‘ فِیْ غَیْرِہٖ مِنَ الصِّیَامِ‘ حَتّٰی لَا یَکُوْنَ مَقْصُوْدًا إِلٰی صَوْمِہٖ بِعَیْنِہٖ۔ کَمَا جَائَ عَنْہُ فِیْ صَوْمِ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ .
٣٢٢٨: ابو شہاب نے ابن ابی لیلیٰ سے روایت کی اور انھوں نے پھر اپنی اسناد سے نقل کی ہے۔ پس اس روایت سے ہماری مذکورہ بات ثابت ہوگئی کہ نویں تاریخ کے روزے سے آپ کا مقصد یہ تھا کہ عاشوراء کے روزے کو دوسرے میں داخل کردیا جائے تاکہ معین دن کا روزہ مقصود نہ رہے جیسا کہ جمعہ کے روزے کے بارے میں آیا ہے جو ذیل کی روایات سے معلوم ہو رہا ہے۔
ان روایات سے یہ بات ثابت ہوئی کہ یوم تاسع یعنی نویں تاریخ کا تذکرہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے ارشاد میں اس لیے فرمایا تاکہ اس کے روزہ کو بھی یوم عاشورہ میں داخل فرمائیں تاکہ معینہ دن کا روزہ ہی مقصود نہ رہے اور یہ اسی طرح ہے جیسا کہ جمعہ کے دن کے روزہ کے سلسلہ میں وارد ہے۔
روایت یہ ہے۔