۳۲۳۶ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ‘ قَالَ : ثَنَا أَسَدٌ‘ قَالَ : ثَنَا ابْنُ لَہِیْعَۃَ‘ قَالَ : ثَنَا یَزِیْدُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبٍ‘ أَنَّ أَبَا الْخَیْرِ حَدَّثَہٗ، أَنَّ حُذَیْفَۃَ الْبَارِقِیَّ حَدَّثَہٗ، أَنَّ جُنَادَۃَ بْنَ أَبِیْ أُمَیَّۃَ الْأَزْدِیَّ حَدَّثَہٗ، (أَنَّہُمْ دَخَلُوْا عَلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِیْ یَوْمِ الْجُمُعَۃِ‘ فَقَرَّبَ إِلَیْہِمْ طَعَامًا فَقَالَ کُلُوْا فَقَالُوْا : نَحْنُ صِیَامٌ .فَقَالَ أَصُمْتُمْ أَمْسِ قَالُوْا : لَا‘ قَالَ أَفَصَائِمُوْنَ غَدًا ؟ قَالُوْا : لَا‘ قَالَ فَأَفْطِرُوْا) .
٣٢٣٦: حذیفہ بارقی نے بیان کیا کہ جنادہ بن ابی امیہ ازدی (رض) نے بتلایا کہ ہم جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں جمعہ کے دن حاضر ہوئے ہمارے سامنے کھانا رکھا گیا اور آپ نے فرمایا کھاؤ۔ ہم نے عرض کیا ہم روزے سے ہیں آپ نے پوچھا کیا تم نے کل گزشتہ کا روزہ رکھا ہے ہم نے عرض کیا نہیں پھر آپ نے فرمایا کیا تمہارا کل روزہ رکھنے کی نیت ہے کہا گیا نہیں۔ آپ نے فرمایا پھر افطار کر دو ۔