hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3242

.

الطحاوي

3242
Al Tahawi
۳۲۴۲ : حَدَّثَنَا ابْنُ مَرْزُوْقٍ‘ قَالَ : ثَنَا حِبَّانُ وَیَعْقُوْبُ بْنُ إِسْحَاقَ‘ قَالَا : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ اِبْرَاہِیْمَ الْقَاصُّ‘ قَالَ : ثَنَا الْعَلَائُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ‘ عَنْ أَبِیْہِ‘ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ (لَا صَوْمَ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ حَتّٰی رَمَضَانَ) .قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی کَرَاہَۃِ الصَّوْمِ بَعْدَ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ إِلَی رَمَضَانَ‘ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ‘ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ .وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ‘ فَقَالُوْا : لَا بَأْسَ بِصَوْمِ شَعْبَانَ کُلِّہٖ‘ وَہُوَ حَسَنٌ غَیْرُ مَنْہِیٍّ عَنْہُ .وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٢٤٢: علاء بن عبدالرحمن نے اپنے والد سے نقل کیا انھوں نے ابوہریرہ (رض) سے نقل کیا کہ جناب نبی اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا کہ نصف شعبان کے بعد رمضان تک کوئی روزہ نہیں۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں کہ بعض علماء کرام نے نصف سے رمضان المبارک تک روزے کو مکروہ قرار دیا ہے اور انھوں نے اس روایت کو اپنی دلیل میں پیش کیا ہے۔ دیگر علماء کرام نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا کہ تمام شعبان کے روزے رکھنے میں کچھ حرج نہیں خوب ہے اور اس کی ممانعت نہیں ان روایات سے انھوں نے استدلال کیا ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ١٣‘ باختلاف سیرین اللفظ ترمذی فی الصوم باب ٣٨‘ باختلاف لفظ یسیر۔
حاصل روایات نصف شعبان کے بعد روزہ رکھنا درست نہیں ہے۔
فریق ثانی کا مؤقف :
نصف شعبان کے بعد رمضان سے پہلے روزہ رکھنا کسی قسم کے حرج سے خالی ہے اس لیے کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے خود روزہ رکھنا ثابت ہے۔ روایات ملاحظہ ہوں۔