۳۲۴۶ : حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ سِنَانٍ‘ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمٰنِ بْنُ مَہْدِیٍّ‘ قَالَ : ثَنَا ثَابِتٌ‘ فَذَکَرَ بِإِسْنَادِہٖ مِثْلَہٗ .وَزَادَ (قَالَ : (وَمَا رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَصُوْمُ مِنْ شَہْرٍ‘ مَا یَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ‘ فَقُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ‘ رَأَیْتُک تَصُوْمُ مِنْ شَعْبَانَ‘ مَا لَا تَصُوْمُ مِنْ غَیْرِہِ مِنَ الشُّہُوْرِ قَالَ ہُوَ شَہْرٌ یَغْفُلُ النَّاسُ عَنْہُ‘ بَیْنَ رَجَبٍ وَرَمَضَانَ‘ وَہُوَ شَہْرُ یُرْفَعُ فِیْہِ الْأَعْمَالُ إِلٰی رَبِّ الْعَالَمِیْنَ‘ فَأُحِبُّ أَنْ یُرْفَعَ عَمَلِیْ وَأَنَا صَائِمٌ) .
٣٢٤٦: عبدالرحمن بن مہدی نے کہا ہمیں ثابت نے بیان کیا پھر ثابت نے اپنی سند سے روایت نقل کی ہے اور اس میں یہ اضافہ ہے میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کسی ماہ میں اتنے روزے رکھتے نہیں دیکھا جتنا کہ آپ شعبان میں رکھا کرتے تھے میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں نے دیکھا کہ آپ شعبان میں اتنے زیادہ روزے رکھتے ہیں جو دوسرے مہینوں میں نہیں رکھتے آپ نے فرمایا یہ وہ شان والا مہینہ ہے جس کے متعلق لوگ غفلت کا شکار ہیں یہ رجب و رمضان کے درمیان میں واقع ہے اس میں اعمال اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں پیش کئے جاتے ہیں میں پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال ایسی حالت میں پیش ہوں کہ میں روزے کی حالت میں ہوں۔
تخریج : نسائی فی الصیام باب ٧٠‘ مسند احمد ٥؍٢٠١۔