hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 327

.

الطحاوي

327
Al Tahawi
۳۲۷ : حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْفَرَجِ قَالَ : ثَنَا یَحْیَی بْنُ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ بُکَیْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنِی اللَّیْثُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ مَعْمَرُ بْنُ أَبِیْ حَبِیْبَۃَ عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ عَدِیِّ بْنِ الْخِیَارِ قَالَ : تَذَاکَرَ أَصْحَابُ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ الْغُسْلَ مِنَ الْجَنَابَۃِ .فَقَالَ بَعْضُہُمْ : ( اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ ) وَقَالَ بَعْضُہُمْ : " إِنَّمَا الْمَائُ مِنَ الْمَائِ " .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : قَدْ اخْتَلَفْتُمْ عَلَیَّ وَأَنْتُمْ أَہْلُ بَدْرِ ڑ الْأَخْیَارُ ، فَکَیْفَ بِالنَّاسِ بَعْدَکُمْ ؟ فَقَالَ عَلِیُّ بْنُ أَبِیْ طَالِبٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ : یَا أَمِیْرَ الْمُؤْمِنِیْنَ ، إِنْ أَرَدْتُ أَنْ تَعْلَمَ ذٰلِکَ ، فَأَرْسِلْ إِلَی أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَلْہُنَّ عَنْ ذٰلِکَ .فَأَرْسَلَ إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَقَالَتْ : " اِذَا جَاوَزَ الْخِتَانُ الْخِتَانَ فَقَدْ وَجَبَ الْغُسْلُ " .فَقَالَ عُمَرُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ عِنْدَ ذٰلِکَ : لَا أَسْمَعُ أَحَدًا یَقُوْلُ ( الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ) إِلَّا جَعَلْتہ نَکَالًا .فَھٰذَا عُمَرُ ، قَدْ حَمَلَ النَّاسَ عَلٰی ھٰذَا ، بِحَضْرَۃِ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمْ یُنْکِرْ ذٰلِکَ عَلَیْہِ مُنْکِرٌ .وَقَوْلُ رِفَاعَۃَ فِیْ حَدِیْثِ ابْنِ إِسْحَاقَ فَقَالَ النَّاسُ : ( الْمَائُ مِنَ الْمَائِ ) یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ عُمَرُ لَمْ یَقْبَلْ ذٰلِکَ ، لِأَنَّہٗ قَدْ یُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ عَلٰی مَا حَمَلُوْہُ عَلَیْہِ مِنْ ذٰلِکَ .وَیُحْتَمَلُ أَنْ یَکُوْنَ کَمَا قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہٗ .فَلَمَّا لَمْ یُثْبِتُوا لَہٗ ذٰلِکَ تَرَکَ قَوْلَہُمْ ، فَصَارَ إِلٰی مَا رَآہُ ہُوَ وَسَائِرُ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ .وَقَدْ رُوِیَ عَنْ آخَرِیْنَ مِنْہُمْ ، مَا یُوَافِقُ ذٰلِکَ أَیْضًا .
٣٢٧: عبیداللہ بن عدی بن الخیار کہتے ہیں اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے عمر (رض) کے پاس غسل جنابت کے سلسلہ میں باہمی مذاکرہ کیا بعض نے اذا جاوز الختان الختان فقد وجب الغسل سے غسل کو لازم کہا جبکہ دوسروں نے ” انما الماء من المائ “ سے عدم وجوب بتلایا۔ حضرت عمر (رض) کہنے لگے چنے ہوئے اہل بدر جب تم میرے سامنے یہ اختلاف کر رہے ہو تو تمہارے علاوہ لوگوں کا حال کیا ہوگا اس پر علی بن ابی طالب (رض) نے کہا اے امیرالمؤمنین ! اگر آپ اس مسئلہ کی حقیقت جاننا چاہتے ہیں تو ازواج النبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس سلسلہ میں پیغام بھیج کر دریافت کرلیں تو حضرت عمر (رض) نے حضرت عائشہ (رض) کی طرف پیغام بھیج کر دریافت کیا تو انھوں نے فرمایا جب ختان ختان کی طرف تجاوز کر جائے تو غسل واجب ہوجاتا ہے اس پر عمر (رض) نے کہا میں جس کسی کو الماء من الماء کہتا سنوں گا میں اس کو سزا دوں گا۔ پھر یہ حضرت عمر (رض) ہیں جنہوں نے صحابہ کرام (رض) کے سامنے لوگوں کو اس بات پر آمادہ کیا اور ان میں سے کسی ایک نے بھی انکار نہیں کیا اور رہا ررفاعہ کا قول الماء من الماء تو اس میں یہ احتمال ہے کہ عمر (رض) نے اس کو قبول نہیں کیا کیونکہ اس میں یہ احتمال ہے کہ اس کو ابن عباس (رض) والی روایت پر محمول کریں جب وہ حضرات اس بات کو ثابت نہ کرسکے تو آپ نے ان کی بات کو چھوڑ دیا اور آپ نے اسی بات کو اختیار کیا جو کہ آپ کی اور باقی صحابہ کرام (رض) کی رائے تھی اور دیگر صحابہ (رض) سے بھی اس سلسلے میں آپ کی موافقت مروی ہے۔
تتمہ دلیل :
یہ حضرت عمر (رض) جو اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موجودگی میں وجوب غسل کا قول کر رہے ہیں اور اس پر کسی نے انکار نہیں کیا یہ اجماع صحابہ کی کافی دلیل نہیں رہا معاملہ رفاعہ (رض) والی روایت الماء من الماء تو وہ دو احتمال رکھتی ہے ایک وہ جس پر رفاعہ (رض) نے محمول کیا مگر عمر (رض) نے اس کو قبول نہ کیا بلکہ عائشہ (رض) والی روایت کو اختیار کیا دوسرا احتمال یہ ہے کہ یہ احتلام پر محمول ہے اور ختان والی روایت خاص اس موضوع سے متعلق ہے جب رفاعہ (رض) اپنی روایت سے وہ مفہوم ثابت نہ کرسکے تو پھر عمر (رض) دیگر تمام اصحاب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے وجوب غسل کو بالاجماع لازم قرار دیا۔