۳۲۷۴ : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ خُزَیْمَۃَ قَالَ : ثَنَا مُعَلَّی بْنُ أَسَدٍ قَالَ : ثَنَا عَبْدُ الْعَزِیْزِ بْنُ الْمُخْتَارِ قَالَ : ثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّائُ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوْ قِلَابَۃَ قَالَ : حَدَّثَنِیْ أَبُوَ الْمَلِیْحِ قَالَ : دَخَلْتُ مَعَ أَبِیک زَیْدِ بْنِ عَمْرٍو عَلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَحَدَّثَنَا (أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذُکِرَ لَہٗ صَوْمَہٗ قَالَ : فَدَخَلَ عَلَیَّ فَأَلْقَیْتُ لَہٗ وِسَادَۃً مِنْ أُدْمٍ حَشْوُہُ لِیْفٌ فَجَلَسَ عَلَی الْأَرْضِ وَقَالَ لِی إِنَّمَا یَکْفِیْکَ مِنْ کُلِّ شَہْرٍ ثَلاَثَۃُ أَیَّامٍ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَخَمْسَۃُ أَیَّامٍ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَسَبْعَۃُ أَیَّامٍ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ فَتِسْعَۃُ أَیَّامٍ قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ : فَأَحَدَ عَشْرَ یَوْمًا قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ : أَظُنُّہٗ قَالَ : ثَلاَثَۃَ عَشَرَ یَوْمًا قُلْتُ : یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ قَالَ لَا صِیَامَ فَوْقَ صِیَامِ دَاوٗدَ شَطْرَ الدَّہْرِ صِیَامُ یَوْمٍ وَإِفْطَارُ یَوْمٍ)
٣٢٧٤: ابوالملیح نے بیان کیا کہ میں ابو قلابہ کے والد زید بن عمرو کے ساتھ عبداللہ بن عمرو کی خدمت میں گیا تو انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے میرے روزے کا تذکرہ ہوا تو آپ میرے ہاں تشریف لائے میں نے آپ کے لیے چمڑے کا گدا بچھایا جس میں کھجور کا چھلکا بھرا تھا آپ زمین پر بیٹھ گئے اور مجھے فرمایا اے عبداللہ ! تمہیں ہر ماہ تین دن کے روزے کافی ہیں میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (میں اس سے زائد کی طاقت رکھتا ہوں) آپ نے فرمایا پھر پانچ دن۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں) آپ نے فرمایا پھر سات دن میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! آپ نے فرمایا پھر نو دن۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں) تو آپ نے فرمایا گیارہ دن۔ میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! (میں اس سے زیادہ کی طاقت رکھتا ہوں) کہتے ہیں میرا خیال ہے آپ نے تیرہ دن فرمائے میں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں اس سے زائد کی طاقت رکھتا ہوں آپ نے فرمایا۔ پھر کوئی روزہ صیام داؤد (علیہ السلام) سے افضل نہیں آدھا زمانہ۔ ایک دن روزہ ایک دن افطار۔