۳۲۸۷ : حَدَّثَنَا رَبِیْعٌ الْمُؤَذِّنُ قَالَ : ثَنَا شُعَیْبُ بْنُ اللَّیْثِ قَالَ : ثَنَا اللَّیْثُ عَنْ بُکَیْرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الْأَشَجِّ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ سَعِیْدٍ الْأَنْصَارِیِّ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنْ (عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ أَنَّہٗ قَالَ ہَشَشْتُ یَوْمًا فَقَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَأَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ فَعَلْتُ الْیَوْمَ أَمْرًا عَظِیْمًا قَبَّلْتُ وَأَنَا صَائِمٌ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَأَیْتُ لَوْ تَمَضْمَضْتُ بِمَائٍ وَأَنْتَ صَائِمٌ ؟ .فَقُلْتُ : لَا بَأْسَ بِذٰلِکَ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَفِیْمَ ؟) .
٣٢٨٧: جابر بن عبداللہ نے عمر بن خطاب (رض) سے نقل کیا ایک دن مجھے نشاط آئی تو میں نے روزے کی حالت میں بیوی کا بوسہ لے لیا پھر میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا آج میں نے بڑا گناہ کیا ہے کہ روزے کی حالت میں ‘ میں نے بوسہ لے لیا اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تمہارا کیا خیال ہے اگر تم روزہ کی حالت میں مضمضمہ کرو تو میں نے کہا اس میں تو کچھ حرج نہیں۔ تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تو پھر بوسہ سے کیا حرج لازم آئے گا۔ یعنی کچھ حرج نہیں ہے۔
تخریج : ابو داؤد فی الصوم باب ٣٣‘ دارمی فی الصوم باب ٣١‘ مسند احمد ٢١١‘ ٥٢۔
لغات : ھششت۔ خوشی میں آنا۔ نشاط میں آنا۔