۳۳۱۳ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا أَبُوْ عَاصِمٍ عَنِ ابْنِ عَوْنٍ عَنْ اِبْرَاہِیْمَ عَنْ (الْأَسْوَدِ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَعَبْدُ اللّٰہِ بْنُ مَسْعُوْدٍ إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا نَسْأَلُہَا عَنِ الْمُبَاشَرَۃِ ثُمَّ خَرَجْنَا وَلَمْ نَسْأَلْہَا .فَرَجَعْنَا فَقُلْنَا : یَا أُمَّ الْمُؤْمِنِیْنَ أَکَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُبَاشِرُ وَہُوَ صَائِمٌ .قَالَتْ : نَعَمْ وَکَانَ أَمْلَکَکُمْ لِأَرَبِہٖ) فَسُؤَالُ عَبْدِ اللّٰہِ عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا عَنْ ھٰذَا دَلِیْلٌ عَلٰی أَنَّہٗ لَمْ یَکُنْ عِنْدَہٗ فِیْ ذٰلِکَ شَیْء ٌ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ حَتّٰی أَخْبَرَتْہُ بِہٖ عَائِشَۃُ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی أَنَّ مَا رُوِیَ عَنْہُ مِمَّا قَدْ وَافَقَ ذٰلِکَ کَانَ مُتَأَخِّرًا عَمَّا رُوِیَ عَنْہُ مِمَّا خَالَفَ ذٰلِکَ
٣٣١٣: اسود کہتے ہیں کہ میں اور ابن مسعود (رض) عائشہ (رض) کی خدمت میں گئے کہ ہم عائشہ (رض) سے جسم سے جسم ملانے کے متعلق دریافت کریں پھر ہم بغیر پوچھے واپس آگئے مگر پھر ہم نے لوٹ کر پوچھا اے امّ المؤمنین ! کیا جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) روزے کی حالت میں اپنا جسم جسم سے ملاتے تھے انھوں نے کہا جی ہاں ! مگر آپ اپنی خواہش پر سب سے زیادہ قابو رکھنے والے تھے۔ حضرت ابن مسعود (رض) کا حضرت عائشہ صدیقہ (رض) سے سوال اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کو اس سلسلہ میں کوئی چیز معلوم نہ تھی پھر حضرت صدیقہ (رض) نے ان کو بتلائی۔ اس سے یہ ثابت ہوگیا کہ جو ان سے اس کے موافق مروی ہے وہ بعد میں ہے اور جو اس کے مخالف مروی ہے وہ پہلے کی بات ہے۔
تخریج : بخاری فی الصوم باب ٢٣‘ مسلم فی الصیام نمبر ٦٨‘ ابن ماجہ فی الصیام باب ٢٠۔
نکتہ : عبداللہ (رض) کا استفسار بتلا رہا ہے کہ ان کے پاس اس سلسلہ کی پہلے کوئی روایت موجود نہ تھی یہاں تک کہ عائشہ (رض) نے ان کو اس کی اطلاع دی اس سے معلوم ہوا کہ ان کی جو روایت اس کے خلاف ہے وہ اس مسئلہ کے معلوم کرنے سے پہلے کی ہے اور جو موافق ہے وہ اس سے بعد کی ہے۔