hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3319

.

الطحاوي

3319
Al Tahawi
۳۳۱۹ : مَا حَدَّثَنَا یُوْنُسُ قَالَ : أَنَا ابْنُ وَہْبٍ أَنَّ مَالِکًا أَخْبَرَہٗ عَنْ زَیْدِ بْنِ أَسْلَمَ عَنْ عَطَائِ بْنِ یَسَارٍ (أَنَّ رَجُلًا قَبَّلَ امْرَأَتَہٗ وَہُوَ صَائِمٌ فَوَجَدَ مِنْ ذٰلِکَ وَجْدًا شَدِیْدًا فَأَرْسَلَ امْرَأَتَہٗ تَسْأَلُ لَہٗ عَنْ ذٰلِکَ فَدَخَلَتْ عَلٰی أُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا زَوْجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لَہَا فَأَخْبَرَتْہَا أُمُّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُقَبِّلُ وَہُوَ صَائِمٌ فَرَجَعَتْ فَأَخْبَرَتْ بِذٰلِکَ زَوْجَہَا فَزَادَہُ شَرًّا وَقَالَ : لَسْنَا مِثْلَ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یُحِلُّ اللّٰہُ عَزَّ وَجَلَّ لِرَسُوْلِہِ مَا شَائَ ثُمَّ رَجَعَتِ الْمَرْأَۃُ إِلٰی أُمِّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَوَجَدَتْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عِنْدَہَا فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَا بَالُ ھٰذِہِ الْمَرْأَۃِ ؟ فَأَخْبَرَتْہُ أُمُّ سَلْمَۃَ فَقَالَ أَلَا أَخْبَرْتِیْہَا أَنِّیْ أَفْعَلُ ذٰلِکَ .فَقَالَتْ أُمُّ سَلْمَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا : قَدْ أَخْبَرْتُہٗ َا فَذَہَبَتْ إِلَی زَوْجِہَا فَأَخْبَرَتْہُ فَزَادَہٗ شَرًّا وَقَالَ یُحِلُّ اللّٰہُ لِرَسُوْلِہِ مَا شَائَ فَغَضِبَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَقَالَ إِنِّیْ لَأَتْقَاکُمْ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ وَأَعْلَمُکُمْ بِحُدُوْدِہٖ) " .فَدَلَّ ذٰلِکَ عَلٰی مَا ذَکَرْنَا فَھٰذَا وَجْہُ ھٰذَا الْبَابِ مِنْ طَرِیْقِ الْآثَارِ وَہُوَ قَوْلُ أَبِیْ حَنِیْفَۃَ وَأَبِیْ یُوْسُفَ وَمُحَمَّدٍ رَحِمَہُمُ اللّٰہُ تَعَالٰی وَقَدْ رُوِیَ عَنِ الْمُتَقَدِّمِیْنَ فِیْ ذٰلِکَ۔
٣٣١٩: زید بن اسلم نے عطاء بن یسار سے نقل کیا کہ ایک آدمی نے روزے کی حالت میں اپنی بیوی کا بوسہ لیا پھر اسے اس کا بہت غم ہوا اس نے اپنی بیوی کو بھیجا تاکہ وہ اس سلسلہ میں پوچھے۔ وہ امّ سلمہ (رض) امّ المؤمنین کی خدمت میں گئی اور اس کا تذکرہ کیا تو امّ سلمہ (رض) نے اسے اطلاع دی کہ آپ روزے کی حالت میں بوسہ لیتے تھے۔ وہ لوٹ کر اپنے خاوند کے ہاں آئی اور اس کو اطلاع دی مگر اس بات نے اس کے غم کو اور بڑھا دیا وہ کہنے لگا ہم تو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرح نہیں اللہ تعالیٰ اپنے رسول کے لیے جو چیز چاہے حلال کرے وہ عورت دوبارہ لوٹ کر امّ سلمہ (رض) کی خدمت میں گئی تو اس نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو ان کے مکان میں پایا آپ نے فرمایا اس عورت کا کیا معاملہ ہے امّ سلمہ (رض) نے آپ کو اطلاع دی تو آپ نے فرمایا کیا تم نے اس کو نہیں بتلایا کہ میں ایسا کرتا ہوں امّ سلمہ (رض) کہنے لگیں میں نے اس کو اطلاع دی ہے مگر یہ اپنے خاوند کے ہاں گئی اور اس کو اس بات کی اطلاع دی تو اس کے غم میں اضافہ ہوا اور اس نے کہا اللہ تعالیٰ تو اپنے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے جو چاہے حلال کر دے اس پر جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو غصہ آگیا اور فرمایا میں تم میں سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے والا ہوں اور تم میں سب سے زیادہ اس کی حدود سے واقف ہوں۔ اس سے بات پر دلالت مل گئی جو ہم نے بیان کی ہے۔ آثار کو سامنے رکھتے ہوئے اس باب کی یہی صورت ہے اور یہ امام ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا قول ہے اور متقد میں سے بھی اسی طرح منقول ہے۔ آثار ذیل میں ہیں۔
تخریج : مسلم فی الصیام نمبر ٧٤۔
یہ روایت دلالت کر رہی ہے کہ جو حکم اس سلسلہ میں جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ہے وہی حکم دیگر افراد کا بھی ہے آثار کے لحاظ سے اس باب کا یہ حکم ہم نے ثابت کردیا۔
ہمارے ائمہ ابوحنیفہ ‘ ابو یوسف ‘ محمد رحمہم اللہ کا یہی قول ہے۔