hadith book logo

Al Tahawi: Hadith 3328

.

الطحاوي

3328
Al Tahawi
۳۳۲۸ : حَدَّثَنَا أَبُوْ بَکْرَۃَ قَالَ : ثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَۃَ قَالَ : ثَنَا شُعْبَۃُ قَالَ : ثَنَا أَبُوَ الْجُوْدِیِّ عَنْ بَلْجٍ رَجُلٍ مِنْ مَہْرَۃَ عَنْ أَبِیْ شَیْبَۃَ الْمَہْرِیِّ قَالَ : قُلْت لِثَوْبَانَ حَدِّثْنَا عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : (رَأَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَائَ فَأَفْطَرَ) قَالَ أَبُوْ جَعْفَرٍ : فَذَہَبَ قَوْمٌ إِلٰی أَنَّ الصَّائِمَ اِذَا قَائَ فَقَدْ أَفْطَرَ وَاحْتَجُّوْا فِیْ ذٰلِکَ بِھٰذَا الْحَدِیْثِ وَخَالَفَہُمْ فِیْ ذٰلِکَ آخَرُوْنَ فَقَالُوْا : إِنِ اسْتَقَائَ أَفْطَرَ وَإِنْ ذَرَعَہُ الْقَیْئُ لَمْ یُفْطِرْ وَقَالُوْا : قَدْ یَجُوْزُ أَنْ یَّکُوْنَ قَوْلُہٗ (قَائَ فَأَفْطَرَ) أَیْ قَائَ فَضَعُفَ فَأَفْطَرَ وَقَدْ یَجُوْزُ ھٰذَا فِی اللُّغَۃِ وَاحْتَجَّ الْأَوَّلُوْنَ لِقَوْلِہِمْ أَیْضًا.
٣٣٢٨: ابو شیبہ مھری کہتے ہیں کہ میں نے ثوبان سے کہا ہم کو جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد سناؤ انھوں نے کہا میں نے جناب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دیکھا کہ آپ نے قے کی پھر روزہ افطار کردیا۔ امام طحاوی (رح) فرماتے ہیں بعض علماء یہ کہتے ہیں کہ روزہ دار جو جب قے آگئی تو اس کا روزہ ٹوٹ گیا ۔ انھوں نے اپنی دلیل میں اس روایت کو پیش کیا ہے ‘ دیگر علماء نے ان سے اختلاف کرتے ہوئے کہا ‘ اگر اس نے جان بوجھ کر قے کی تو اس کا روزہ جاتا رہا اور اس کو قے آگئی تو اس کا روزہ نہیں ٹوٹا۔
حاصل روایات : ان روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کو قے آئی پھر آپ نے روزہ افطار کردیا روزہ قے سے ٹوٹا تو تبھی بعد میں آپ نے مفطرات کو استعمال فرمایا ورنہ ضرورت نہ تھی۔
الجواب : ان روایات میں تو مذکور نہیں کہ قے سے روزہ ٹوٹ گیا بلکہ بعد میں آپ نے افطار کردیا تو اس سے یہ تو لازم نہ آیا کہ قے سے روزہ ٹوٹا ہے بلکہ عین ممکن ہے قے آئی جس کی وجہ سے کمزوری ضعف پیدا ہوا تو آپ نے روزہ افطار کردیا اور لغوی اعتبار سے یہ اطلاق ہوتا رہتا ہے۔